پشاور۔ رائے ونڈ مارچ کو ناکام بنانے کے لیئے شریف حکومت مختلف محاذوں پر سرگرمِ عمل ہے۔ حکومت کی حامی بین الاقوامی قوتوں نے بھی غیر محسوس انداز میں عمران خان سیاسی ناکامی سے دوچار کرنے کی کاوشیں شروع کر رکھی ہیں۔ ایک حکمت عملی کے تحت خیبر پختونخواہ اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر کامیاب ہونے والے پاکستان تحریک انصاف کی 8 ارکانِ اسمبلی کو یورپ یاترا پر بھیج دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق 24 ستمبر2016 ء کو خیبر پختونخواہ اسمبلی کی آٹھ خواتین ارکان اور ایک مرد ایم پی اے ایک برطانوی ادارے کی دعوت پر لندن روانہ ہو گئے ہیں۔ unnamedلندن جانے والی خاتون ایم پی ایز میں زرین ضیاء (لکی مروت) عائشہ نعیم (صوابی) ملیحہ عمر اصغر خان ، نرگس علی (مانسہرہ)، دینا ناز (لکی مروت)، نسیم حیات (صوابی) نگینہ خان (مالاکنڈ) اور فوزیہ بی بی (چترال) شامل ہیں جب کے ان کے ہمراہ جانے والوں میں پشاور سے تعلق رکھنے والے محمود جان ایم پی اے بھی شامل ہیں۔ unnamed-6ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے تیس ستمبر کے رائے ونڈ مارچ کو کامیاب بنانے کے لیئے پی ٹی آئی کے عہدیداروں اور منتخب پارلیمانی نمائندوں کو بھر پور مہم چلانے کی ہدایت جاری کی تھیں۔ 2013 ء کے عام انتخابات کے بعد خیبر پختونخواہ کو عمران خان کی موجودہ سیاسی اننگز میں ”ہوم گراؤنڈ“ اور ”ہوم کراؤڈ“ کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ اس صوبے میں ان کا مقابلہ عوامی نیشنل پارٹی اور مولانا فضل الرحمن کی جمیعت العلمائے اسلام جیسی منجھی ہوئی سیاسی پارٹیوں سے ہے۔ 2014 ء کے احتجاجی دھرنے کے بعد حکمران جماعت اور ان کی حلیف سیاسی جماعتوں نے خیبر پختونخواہ کے صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت کو ناکام بنانے اور پارٹی کے اندر عمران خان کو تنہا کرنے کی حکمت عملی پر کام شروع کر رکھا ہے۔ رائے ونڈ مارچ سے صرف ایک ہفتہ قبل کے پی کے اسمبلی کی آٹھ خواتین ارکان اور ایک مرد ایم پی اے کی لندن روانگی کی وجہ سے رائے ونڈ مارچ میں صوبہ خیبر پختونخواہ سے بڑی تعداد میں خواتین کی شرکت کا معاملہ مشکوک ہو گیا۔ unnamed-6پی ٹی آئی کے ورکر اس سارے معاملے کے تانے بانے عمران خان کے خلاف حکومت اور ان کے بین الاقوامی حلیفوں کی سیاسی حکمت عملی اور سازشوں سے ملا رہے ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق صوبہ سرحد کے اضلاع لکی مروت، صوابی، پشاور، مالاکنڈ ڈویژن، چترال کے اضلاع میں خواتین کو رائے ونڈ مارچ میں شرکت کے لیئے ترغیبی سرگرمیاں مذکورہ ارکانِ اسمبلی کی عدم موجودگی کے باعث نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں کا کہنا ہے رائے ونڈ مارچ کے لیئے قافلے28 ستمبر سے روانہ ہونے شروع ہو جائیں گے اور مذکورہ ایم پی ایز کی اس دوران واپسی ممکن دکھائی نہیں دیتی۔unnamed-11 دوسری جانب پنجاب اسمبلی سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے رکن ملک احمد خان بھچر نے ذرائع کو بتایا ہے کہ پنجاب حکومت نے پی ٹی آئی کے ارکانِ اسمبلی کو زراعت سے متعلقہ موضوع سے متعلق ایک پارلیمانی وفد میں شامل کرکے بھارت دورے پر بھیجنے کی کوشش کی تھی جسے پی ٹی آئی کے ارکان، پنجاب اسمبلی نے مسترد کردیا ہے۔

حصہ