الوداع ۔۔اب تمھارے حوالے ٹیم ساتھیو۔۔۔!


مبشرمہدی

یہ پندرہ مارچ 1877 ء کا دن تھا ۔میلبورن کے شہر میں موسم خوشگوار تھا ۔آسمان پر بادل ٹکڑیوں میں تیر رہے تھے ۔اورگراؤنڈ میں ہلکی ہلکی دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔دو ٹیموں کے کھلاڑی گراؤنڈ میں موجود تھے۔ ان کے دلوں میں خوشی اور نئے پن کا احساس تھا جو ان کے چہروں سے جھلک رہا تھا ۔آج ایک تاریخ رقم ہونے جا رہی تھی ۔ اس کھیل کی ابتدا ہو رہی تھی جس نے دنیا کو اس وقت اپنا دیوانہ بنا رکھا ہے۔جی ہاں یہ ٹیسٹ کرکٹ کا پہلا میچ کھیلا جا رہا تھا ۔آسٹریلیا اورانگلینڈ کی ٹیمیں مدِّ مقابل تھیں۔ آسٹریلیا نے یہ میچ 45 رنز سے جیت لیا تھا۔
ٹیسٹ کرکٹ سب سے لمبی طرز کی کرکٹ ہے۔ کرکٹ کا آغاز ٹیسٹ کرکٹ سے ہی ہوا تھا۔آج تک 1800 سے زائد ٹیسٹ میچ کھیلے جا چکے ہیں۔اور دس ٹیمیں ٹیسٹ کھیلنے کا اعزاز رکھتی ہیں۔پاکستان کو آئی سی سی نے 1952 میں کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی ۔ پاکستان نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 16 اکتوبر 1952 ء میں بھارت کے خلاف دہلی میں کھیلا ۔ایشیائی ٹیموں میں سب سے زیادہ ٹیسٹ جیتنے کا اعزاز پاکستان کے پاس ہے۔
پاکستانی ٹیسٹ ٹیم میں مایہ ناز کھلاڑی شامل رہے ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں اپنی کارکردگی کا لوہا منوایا۔اور آئی سی سی ریکنگ میں ٹاپ ٹین میں جگہ بنائے رکھی۔ پاکستان کے حالیہ دورہ ویسٹ انڈیز میں ٹیسٹ سیریز فتح حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس لحاظ سے بھی اہم اور تاریخی سیریز تھی کہ اس کے اختتام پر پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے دو بہترین بلے بازوں کے کھیل کے دورانئے کا اختتام ہوا ہے۔ جی ہاں ان سے میری مراد یونس خان اور مصباح الحق ہیں۔
یونس خان نے پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ دس ہزار ننانوے رنز بنائے ہیں۔انہوں نے 118 ٹیسٹ میچ کھیلے جن میں 34 ٹیسٹ سینچریاں اور 33 نصف سینچریاں شامل ہیں ۔ان کی عمر چالیس سال تھی اور اس عمر میں بھی انہوں نے خود کو فٹ رکھا ہوا تھا۔وہ انگلینڈ کے خلاف ڈبل اور سری لنکا کے خلاف ٹرپل سینچری بھی بنا چکے ہیں۔
یونس خان نے اپنے کیرئیر کا پہلا ٹیسٹ 26 فروری 2000 ء کو سری لنکا کے خلاف راولپنڈی میں کھیلا۔اور پہلے میچ کی دوسری اننگز میں 107 رنز کی اننگ کھیلی۔ان کا ٹیسٹ میں سب سے زیادہ انفرادی سکور 313 تھا۔وہ ایک با صلاحیت کپتان بھی تھے جس کا عملی نمونہ 2007 ء کے ٹی ٹوئینٹی کپ کی جیت کی صورت میں سامنے آیا۔
آئی سی سی کی ٹیسٹ رینکنگ میں یونس خان نے 16 ویں اور مصباح الحق نے 21 ویں درجے پر اپنے شاندار کیرئیر کا اختتام کیا۔
مصباح الحق ایک با صلاحیت کھلاڑی اور ایک کامیاب ترین کپتان ثابت ہوئے۔انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز 8 مارچ 2001ء کو نیوزی لینڈ کے خلاف کیا۔چند سال کے لیے وہ ٹیم میں جگہ نہ بنا سکے ۔انضمام الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد 2007ء میں دوبارہ ٹیم میں شامل ہوئے اور کامیاب کھلاڑی ثابت ہوئے۔ 2008ء میں وہ نائب کپتان اور پھر کپتان بنے۔انہوں نے ابوظہبی میں آسٹریلیا کے خلاف 21 گیندوں پر تیز ترین ففٹی بھی بنائی۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے 11 سیریز جیتیں اور اپنی 11ویں اور آخری سیریز میں فاتح بن کر انہوں نے ایشیائی کپتانوں میں اول نمبر ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔انہیں دنیا میں کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان مانا جاتا ہے۔
ان دونوں تجربہ کار بیسٹ مینوں کے جانے سے پاکستان کی ٹیم میں ایک خلا پید اہو جائے گا جس کو آسانی سے پُر نہیں کیا جا سکتا۔ان حالات میں پاکستان کے پاس بیٹنگ میں اتنے زیادہ تجربہ کار اور بہتر کھلاڑی موجود نہیں ہیں کہ وہ ان کی جگہ لے سکیں ۔اور فوری طور پر مشکل حالات میں بیٹنگ لائن کو سہارا دے سکیں۔
مستقل مزاجی اور وکٹ پر جم کے کھیلنا یہ دو باتیں ٹیسٹ کرکٹ کی جان ہیں ۔اس کے علاوہ کپتان ہونے کی صورت میں مشکل حالات میں دباؤ کو برداشت کرنا اور ٹیم کو مشکل حالات سے نکالنے کے لئے درست فیصلے کرنا یہ کامیاب کپتان کی علامت ہوتا ہے۔مصباح الحق اور یونس خان میں یہ دونوں خصوصیات بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں۔اور اس بات نے انہیں عظیم ٹیسٹ کرکٹرز کی صف میں لا کھڑا کیا ۔یہ دونوں عظیم کھلاڑی ٹیم کے باقی کھلاڑیوں کے لیے بھی مشعلِ راہ ہیں۔ہم ان عظیم کرکٹرز کو کھیل میں ان کی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور پاکستانی ٹیم کی مزید کامیابیوں کے لیے دعا گو ہیں۔کہ خداوندِ کریم پاکستانی ٹیم کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے ۔ آمین
سید مبشرمہدی ۔03475250014

حصہ