عدالت کو ان سوالات کے جوابات نہیں دیئے جارہے جو وہ مانگ رہی ہے،جسٹس اعجازالاحسن

اسلام آباد:(نمائندہ نیلاب نیوز شہزاد ہاشمی) سپریم کورٹ میں پاناما عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو ان سوالات کے جوابات نہیں دیئے جارہے جو وہ مانگ رہی ہے اور شریف خاندان کی منی ٹریل کا جواب آج تک نہیں آٰیا۔

نیلاب نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس اعجازافضل کی سربراہی میں پاناما عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ جے آئی ٹی کو وزیراعظم نے اپنے اثاثوں کی تفصیل پیش کی، جے آئی ٹی نے مزید کسی اثاثوں سے متعلق سوال نہیں کیا، جے آئی ٹی میں پیشی تک اور کوئی اثاثہ تھا ہی نہیں، جے آئی ٹی کے پاس کچھ ہوتا تو سوال ضرور کرتی، وزیراعظم کے رشتہ داروں نے کوئی جائیداد نہیں چھپائی جب کہ وزیراعظم کی کوئی بے نامی جائیداد نہیں ہے۔ نیب قوانین کے مطابق ایسا شخص جس کے بیوی بچوں کے نام اثاثے ہوں اس کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا،  وزیر اعظم نے ٹیکس ریٹرن میں اثاثے ظاہر کیے ہیں اور انہوں نے کوئی اثاثہ نہیں چھپایا۔

خواجہ حارث کی جانب سے نیب قانون شق (5 اے) کا حوالہ دینے پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ قانون میں آمدن اور اثاثوں کے ذرائع کا تذکرہ ہے، قانون میں اس شخص کا بھی ذکر ہے جس کے قبضے میں اثاثہ ہو اور اثاثے جس کے زیر استعمال ہوں وہ بھی بے نامی دار ہو سکتا ہے۔ کیا آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ کسی دوسرے کے گھر میں کچھ عرصہ رہنے والا ملزم نہیں بن سکتا، زیر استعمال ہونا اور بات ہے اور اثاثے سے فائدہ اٹھانا الگ بات ہے، آپ کے مطابق کسی کے گھر رہنے والے پر نیب قانون کا اطلاق نہیں ہوگا، یہ بات ہم مہینوں سے سن رہے ہیں، فلیٹ کی ملکیت کے علاوہ ساری چیزیں واضح ہیں، اس کیس میں سوال 1993 سے اثاثے زیراستعمال ہونے کا ہے جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ کیس کی نوعیت مختلف ہے، اثاثہ وزیر اعظم کے نام نہیں، جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ سیاق و سباق سے ہٹ کر بنائی گئی، قانونی تقاضوں کو سامنے نہیں رکھا گیا، جے آئی ٹی کی رپورٹ میں وزیر اعظم کے بے نامی اثاثوں کا کوئی ثبوت نہیں، لندن فلیٹ کے مالک کا نام سامنے آچکا ہے۔

حصہ