Neelab Writer

تحریر : عابد ایوب اعوان

کابل سے ایک نجی طیارے نے اڑان بھری اور شہر اقتدار اسلام آباد میں اتر کر اس طیارے میں بیٹھی شخصیات قریب ہی واقع ایک سیاحتی مقام مری کی طرف خصوصی پروٹوکول کے ساتھ روانہ ہو گئیں۔ مری کے پر فضا مقام پر پہنچ کر ان شخصیات نے وزیر اعظم نواز شریف ، خاتون اول بیگم کلثوم نواز اور حسین نواز کے ساتھ ایک خفیہ ملاقات کی۔ ساتھ میں کھانا کھایا گیا اور پھر یوں اس طیارے نے اپنی اڑان کا رخ ہندوستان کی طرف بھرا۔ اس نجی طیارے میں آنیوالے معزز مہمانوں میں ہندوستانی اسٹیل ٹائیکون جندال اور انکے ساتھ 2 اور ہندوستانی تاجر تھے۔ جندال وزیر اعظم نواز شریف کے ذاتی قریبی دوستوں میں سے ایک ہیں ۔اس ملاقات کے بارے میں مریم نواز صاحبہ نے اپنا ایک ٹویٹ کر کے پاکستانی قوم کو آگاہ کیا۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں وقوع پذیر ہوئی جب ہندوستانی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ کو فوجی عدالت نے سزائے موت کا حکم سنایا ہوا ہے۔ اس را کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو نے اپنے اعترافی جرم میں پاکستان میں تخریبی کارروائیاں اور دہشتگردی جیسے واقعات کروانے میں ہندوستان سرکار کے ملوث ہونےکا جرم قبول کیا ہے۔ ہندوستان نے ہر موقعے پر پاکستان کے خلاف اپنی سازشیں کر کے نقصان پہنچایا ہے۔ ہندوستان کے ساتھ ہماری جنگیں ہو چکی ہیں اور ہندوستان پاکستان کا اذلی دشمن ثابت ہوا ہے۔ بلوچستان اور کراچی سمیت ملک کے دیگر مقامات پر دہشتگردی کی کارروائیاں کر کے حالات خراب کرنے کے تمام ثبوت مل چکے ہیں جن میں ہندوستان ملوث ہے۔ ایسے ملک دشمن کے ساتھ ہمارے حکمرانوں کے ذاتی مراسم سمجھ سے بالاتر ہیں۔ ذاتی دوستیاں اسطرح سے نبھائی جارہی ہیں کہ کبھی کابل سے ایک طیارہ اڑان بھر کے رائیونڈ کے محلات میں اتر کر سالگرہ کی مبارکباد دیتا ہے تو دوسری طرف اسی خیر سگالی کے جذبے کے تحت ساڑھیوں کے تحفے بھجوائے جاتے ہیں۔ اب کے بار بھی کابل سے آنیوالے اس طیارے میں ذاتی دوست تھے جو مودی سرکار کا خصوصی پیغام بھی لے کے آئے ہیں۔ اس سے پہلے بھی وزیر اعظم نواز شریف اور جندال کی ایک ملاقات کھٹمنڈو میں سارک کانفرنس کے موقعے پر ہو چکی ہے جس کے بعد اوفا اجلاس میں وزیر اعظم نواز شریف اور مودی کی ملاقات ہوئی تھی اور اب شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس ہونا ہے تو اس سے پہلے نواز شریف اور جندال کی ملاقات سامنے آئی ہے۔ نواز شریف نے جب ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی تھی تو تب بھی نواز شریف اور جندال کی ایک ملاقات انکے گھر پر ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور کالعدم جماعت الاحرار تنظیم کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے بھی پچھلے دنوں ہتھیار پھینک کر خود کو پاکستانی سیکورٹی فورسز کے سامنے سرنڈر کیا۔ احسان اللہ احسان نے بھی اپنے اعترافی جرم میں یہ قبول کیا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی جیسے واقعات میں ہندوستان ملوث ہے۔ اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ہندوستانی خفیہ ایجنسی را اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے کہنے پر اور ان سے پیسوں کے عوض پاکستان میں متعدد دہشتگردی کی کارروائیاں کر کے معصوم اور بے گناہ لوگوں کے خون کی ہولی کھیلی ہے۔ ہندوستان نے شروع دن سے ہی پاکستان کے قیام کو دل سے کبھی قبول نہیں کیا اور پاکستان کو ختم کرنے کے اپنے ناپاک اور ناکام عزائم کو عملی جامہ پہنانے کی کوششوں میں ہمیشہ سے لگا ہوا ہے۔ مملکت پاکستان کے خلاف اس کے قیام کے وقت سے ہی غیر مذہبی عالمی قوتیں اسکو ختم کرنے اور انتشار برپا کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ اس سلسلے میں اس اسلام کے نام پر بننے والی ریاست میں کبھی فرقہ وارانہ تعصب پھیلا کر اور کبھی لسانیت کے نام پر انتشار اور دہشتگردی کی چنگاریاں سلگائیں گئی جنہوں نے وطن عزیز کی پوری ریاست کو جھلسا کے رکھ دیا ہے۔ ریاست پاکستان آج اس موڑ پر آکر کھڑی ہے کہ اب ہمیں اپنے دشمنوں کے ان ناپاک عزائم کا قلع قمع کر کے ان دہشتگردی اور انتشار پھیلانے والی قوتوں کا چہرہ عالمی دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ بدقسمتی سے دشمن ہمارے ملک میں گھس کر ہمارے ہی لوگوں کو استعمال کر کے ہمیں اندرونی محاذ پر نقصان پہنچا چکا ہے جس سے ہمیں بیرونی خطرات سے ذیادہ اب اپنے اندرونی خطرات سے نمٹنا ہو گا۔ 1980 کی دہائی سے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت جسطرح سے دوسروں کی جنگ ہم پر مسلط کی گئی اسکی تلخیاں اور اثرات ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ سوویت یونین اور امریکہ کی افغان جنگ میں خود کو شامل کر کے ہم نے نقصان کا خمیازہ ہی بھگتا ہے اور آج تک بھگت رہے ہیں۔ دوسروں کے گھر میں لگی آگ کی چنگاریوں میں بلاوجہ کود کر اپنا گھر بھی جلا بیٹھے ہیں۔ اس دور میں انتہا پسندی کا پرچار کرکے آج ہم اس لگی فصل کو ہی کاٹ رہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں دوبارہ سے ایک نئے سرے سے ایک نیا آغاز کرنا ہوگا جس میں ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کو ایک واضح ایسی شکل دینا ہو گی کہ ہم اپنے ملک کو اب مزید مستقبل میں ایسی غلطیاں کر کے پھر سے نہ کسی نئی دلدل میں پھنسا دیں۔ ہمیں پھونک پھونک کر قدم پیرا ہونے کی ضرورت ہے اور عالمی دنیا کے مفادات کو جانچ کر اپنے فیصلے خود کرنے ہوں گے اور ایسے فیصلے کرنا ہوں گے کہ خود کو ان عالمی مفادات سے بچا کر اپنے لیئے مفادات حاصل کر کے ایک نئی سمت متعین کریں۔ اللہ ہمیں قیادت کے فقدان سے نجات دلا کر ہمارے لیئے ایسی قیادت منتخب کرے جو وطن عزیز کو علامہ اقبال اور قائد اعظم کا پاکستان بنانے میں اپنی کوئی کسر نہ چھوڑے۔ اللہ پاک ہمارے وطن عزیز پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔

حصہ