آگے آگے دیکھیئے ہوتا ہے کیا

Neelab Writer

تحریر : عابد ایوب اعوان

ایک تازہ مخبری کے نزول کے مطابق ڈان لیکس اسکینڈل والے معاملے کی رپورٹ 2 دن میں منظر عام پر آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ پرویز رشید کے بعد اب طارق فاطمی قربان ہوں گے۔ اس رپورٹ کی تحقیقات کے مطابق ڈان لیکس اسکینڈل میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی کے ملوث ہونے کے شک و شبہات پائے جا رہے ہیں جس پر انکا کردار مشکوک ہے جسکی بنا پر طارق فاطمی قربان ہو جائیں گے
اور ان کا عہدہ تبدیل کردیا جائے گا. واضح رہے کہ اس اسکینڈل میں پرویز رشید پہلے ہی وزارت اطلاعات سے فارغ ہوچکے ہیں۔ ڈان لیکس والا معاملہ پاک فوج کے سابقہ سپہ سالار جنرل راحیل شریف کے دور سپہ سالاری میں رونما ہوا تھا جس پر وہ خاصے برہم ہو گئے تھے اور اس معاملے پر سخت کارروائی کا عندیہ دیا تھا اور اس معاملے پر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کھچاو دیکھنے میں آیا جس پر وزیر اعظم نواز شریف کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ناراضگی پیدا ہو گئی تھی جو کہ بدستور قائم و دائم ہے۔ پھر پانامہ کیس پر بھی اسٹیبلشمنٹ نے اپنا کردار محدود ہی رکھا اور سپریم کورٹ کو ایک واضح پیغام دیا تھا کہ سپریم کورٹ اپنا آئینی و قانونی کردار ادا کرے اور پانامہ کیس کا فیصلہ عام عوام کی طرح فوج بھی سننے کی منتظر ہے۔ بلا شبہ فوج کا اسطرح خود کو سیاسی معاملات سے دور رکھنا قابل تحسین قدم ہے۔ پرویز مشرف نے سیاسی معاملات میں الجھ کر اور عدلیہ سے ٹکراو کرکے فوج کا امیج خراب کر دیا تھا۔ پرویز مشرف کے بعد آنے والے فوج کے سپہ سالار جنرل کیانی نے بھی خود کو سیاسی معاملات سے دور رکھا اور پھر جنرل راحیل شریف نے اپنی سپہ سالاری کا اعلی نمونہ پیش کرتے ہوئے وطن عزیز سے جسطرح دہشت گردی کے قلع قمع کرنے میں ایک کردار ادا کیا اسے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی سراہا جاتا ہے۔ جنرل راحیل شریف کو ہی سارا کریڈٹ جاتا ہے کہ اب فوج کا مشرف دور کے بعد دوبارہ سے پہلے کی طرح کا امیج قائم ہو گیا ہے اور پاکستانی عوام کے دلوں میں فوج کیلئے عزت و اکرام میں اضافہ ہوا ہے۔ جنرل راحیل شریف کے بعد موجودہ سپہ سالار جنرل قمر باجوہ بھی اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے خود کو سیاسی معاملات میں الجھانے کی بجائے اپنی سپہ سالاری کا بہترین نمونہ پیش کرتے ہوئے عزت واحترام سے رخصت ہو کر اگلے سپہ سالار کو فوج کا یہی بہترین امیج منتقل کرنے کی سوچ رکھتے ہیں۔ ڈان لیکس معاملہ پر حکومتی ایماء اور خواہش پر مبنی رپورٹ فوج مسترد کر چکی ہے اور اب نئی رپورٹ 2 دن میں آجائیگی۔ ڈان لیکس معاملے میں ملوث اصل کردار کی بجائے پہلے پرویز رشید کو قربان کیا گیا اور اب طارق فاطمی قربان ہوں گے۔
فوج کی کور کمانڈر کانفرنس جو کہ آپریشن ردالفساد پر ہوئی مگر اس میں پانامہ کیس فیصلے پر بننے والی جے آئی ٹی پر بھی خصوصی بات چیت کی گئی ہے جس کے بعد آئی ایس پی آر کا بیان جے آئی ٹی کیلئے ایک مکمل اشارہ ہے ہے کہ اس میں تحقیقات بالکل شفاف طریقے سے ہوں گی۔ آئی ایس پی آر کے اس بیان نے تمام تر شکوک و شبہات ختم کر دیئے ہیں کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات صحیح طریقے سے نہیں ہو سکیں گی۔ آئی ایس پی آر کے بیان مطابق جے آئی ٹی میں اداروں کے نمائندے آئینی کردار ادا کرتے ہوئے ایک صاف اور شفاف تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائیں گے۔ کور کمانڈر کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی تحقیقات میں فوج کا کردار شفاف ہو گا اور فوج کے نمائندے قانونی کردار ادا کر کے عدلیہ کے اعتماد پر پورا اتریں گے۔ جے آئی ٹی میں شامل ایم آئی اور آئی ایس آئی کے نمائندے ایمانداری سے تحقیقات کریں گے ، سپریم کورٹ کی دی گئی ذمہ داری پر من و عن عملدرآمد کیا جائے گا۔
جے آئی ٹی کی تحقیقات پر اب کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہئیے اور امید رکھنی چاہیئے کہ وزیر اعظم آفس جے آئی ٹی کی تحقیقات پر اثر انداز نہیں ہو سکے گا۔ آئندہ آنیوالے دنوں میں اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے حکومتی کاروائی میں روڑے اٹکائے جائیں گے۔ پانامہ کیس معاملے پر احتجاج اور جلسے جلوسوں میں شدت بڑھے گی جس پر حکومت کیلیئے لازمی طور پر مشکلات بھی بڑھیں گی اور حکومتی معاملات چلانا آسان نہیں رہیگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کونسی سیاسی جماعت اس معاملے کو اپنے حق میں بہتر طریقے سے کیش کروا کر آئندہ انتخاب میں اپنی کارکردگی بڑھانے میں کامیابی حاصل کرتی ہے۔ پانامہ کیس کے 20 اپریل والے فیصلے میں عدلیہ کی طرف سے وزیر اعظم یا شریف خاندان کو کلین چٹ نہیں ملی بلکہ مزید تحقیقات میں وزیر اعظم اور شریف خاندان کے لیئے مسائل بڑھیں گے اور تحقیقاتی رپورٹ کے بعد سپریم کورٹ کا جو فیصلہ آئیگا وہ واقعی ملکی تاریخ میں اہمیت کا حامل فیصلہ ہو گا جس پر ملکی سیاست ایک اہم موڑ میں داخل ہو گی۔ اور مسلم لیگ ن کے آئندہ کے سیاسی مستقبل پر یہ فیصلہ ضرور اپنا اثر دکھائے گا۔ تحقیقاتی رپورٹ کے بعد آنیوالا فیصلہ یہ ثابت کرے گا کہ مسلم لیگ ن کے لیئے 20 اپریل کا فیصلہ وقتی جان بخشی ہی تھا اور تحقیقاتی رپورٹ کے بعد والا فیصلہ مسلم لیگ ن کے لیئے برا ہو گا۔
حکومتی کشتی اس وقت منڈلاتے طوفانوں کی ذد میں ہے۔ یہ منڈلاتے طوفان ریت کی دیوار ثابت کرنے میں حکومت کامیاب ہوتی ہے یا ان منڈلاتوں طوفانوں میں حکومتی کشتی ڈوبتی ہے یہ تو آنیوالا وقت ہی بتائے گا مگر حکومت کے لیئے سب اچھا بالکل نہیں ہے بلکہ خطرے کی گھنٹی ابھی موجود ہے۔ پانامہ کیس کے 20 اپریل کے فیصلے کے بعد آنیوالا پانامہ ٹو فیصلہ آنا ابھی باقی ہے۔
آگے آگے دیکھیئے ہوتا ہے کیا

حصہ