حدِ ادب
انوار حسین حقی
سانول اور شہنائی کی گونج
_______________________
جولائی 2013 ء کے آخری عشرے کی ایک حبس زدہ شام میں موسیقی کی گہری جڑیں اپنی سرزمین میں پیوست کرنے والے عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کو ملاقات کا ایک پیغام بھجوایا ۔ ان دنوں عمران خان کے آبائی حلقہ انتخاب میں ضمنی الیکشن کا مرحلہ درپیش تھا ۔ جواب ملا کہ
’’ مان لو عشق کی صدارت میں
ایک اجلاس اب ضروری ہے ۔۔
اُن سے ملاقات ہوئی تو میں نے اپنے بیٹے محمد زین العابدین کا ان سے تعارف کروایا ۔۔ جواب میں انہوں نے اپنے دائیں جانب کھڑے ایک سلیم فطرت نوجوان کا بازو پکڑتے ہوئے کہا کہ یہ میرا بیٹا ہے ۔ سانول ۔
سانول سرائیکی ادب اور لوک موسیقی میں پیار ، محبت خلوص اور رومان کا استعارہ ہے ۔ سانول بھتیجے سے یہ میری پہلی ملاقات تھی ۔ شہنشائے لوک موسیقی سے انٹرویو کے بعد سانول سے میرا پہلا سوال تھا کہ ’’ آپ اپنے والد کی سیاست میں دوبارہ سرگرمی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ ؟؟؟نوجوان کاجواب مجھے گہرے ادراک کا آئینہ دار لگا ۔ میں کافی دیر تک لالہ عطاء کو اس سوچ کے ساتھ تکتا رہا کہ ۔۔۔ کچھ سوچ کر ہی فسوں گر لالہ آپ نے اس کا نام سانول رکھا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ نوجوان کہ رہا تھا ۔
۔۔۔۔۔’’ میں سمجھتا ہوں کے میرے والد سیاست کی نسبت بطور ٓرٹسٹ بہتر طریقے سے قوم کی خدمت کر سکتے ہیں۔۔ہر ایک شعبے اور فیلڈ کی اپنی ایک نوعیت ہو تی ہے ۔ میرے والد آرٹسٹ بہت بڑے ہیں اگر انہوں نے عملی سیاست میں حصہ لیا تو مجھے نہیں پتہ کہ وہ اس کو کس طریقے سے نبھاہ پائیں گے۔ بحرحال ایک آرٹسٹ اور ایک والد کی حیثیت سے بہت کم لوگ میں نے ان جیسے دیکھے ہیں۔‘‘
سانول نے یہ بھی کہا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ میں اپنے والد سے متائثر ہو کر گائیکی کی طرف راغب ہوا ہوں۔ اور بہت سی وجوہات اور بہت سے فنکار بھی تھے ۔البتہ والد صاحب کی گائیکی نے یہ احساس ضرور دلایا کہ آرٹ ایک خوبصورت چیز ہے۔اور یہی چیز مجھے موسیقی کی دنیا میں لے آئی ۔ ‘‘۔۔
سانول کا پہلا البم سرائیکی زبان میں ریلیز ہوا تھا ۔ بعد میں اُس نے اردو میں بھی کام کیا۔ اردو اور سرائیکی دونوں زبانوں کے سرور اور چاشنی سے وہ فیض یاب ہوا۔ وہ ’’ پلے بیک سنگنگ‘‘(Play Back Singing ) سے زیادہ متائثر ہے اس لئے غزل گائیکی پر بھی اُس نے خصوصی توجہ دی ہے۔ اُس کے کئی ترانے بھی منظر عام پر آُ چُکے ہیں ۔
سانول کی اس گفتگو کے دوران میں نے جب بھی عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کی جانب دیکھا تو مجھے فکشن نگار ٹالسٹائی کے یہ الفاظ یاد آئے کہ ’’ عظیم فن انتشار کے دور میں جنم لیتا ہے ‘‘ ۔۔۔ عطاء نے گلوکاری سے پہلے ہی سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا ۔ یہ دور قوم کی ابتلاو آزمائش کا دور تھا ۔ ملک کے دولخت ہونے کا سانحہ ضمیر کی نعش کو کاندھا دیئے ہوا تھا ۔ لالہ گلوکاری کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی حصہ لیتا رہا ۔ وہ اپنے علاقے کے لوگوں کو سفاک موسموں سے بچانے کے لیئے ذوالفقار علی بھٹو کے قافلے میں شامل ہوا تھا ۔ پھر ایک دن وہ صرف گلوکاری کا ہو کر رہ گیا ۔۔۔۔۔معاشرتی بحرانوں اور لالہ کے اندرونی طوفانوں نے اُسے ایک بڑا کلا کار بنا دیا ۔۔آڈیو کے دور میں اس کی شہرت نے ملکی سرحدوں کو ایک اساطیری داستان کی طرح عبور کیا ۔ وہ دلوں پر راج کرنے لگا ۔ یہ ایک منفرد اعزاز ہے کہ عیسیٰ خیل کے نیازی پٹھان کی آوازنے سننے والوں کی سماعتوں میں اُس وقت رس گھولا جب ہمارے ہاں ابلاغ کے ذرائع ترقی پذیری کے مراحل سے بھی کوسوں دور تھے۔ اس نے میانوالی اور عیسیٰ خیل میں اپنے دوستوں کی بیٹھکوں سے گانے کی ابتداء کی۔ جذبہ صادق اور لگن سچی اور سُچی تھی کہ اس کے سُروں کی پرواز گلی محلوں شہروں اور قصبوں کی قید سے ما ورا ہو کر پورے سرائیکی وسیب سے ہوتی ہوئی ملک بھر میں اپنے رنگ اور آہنگ بکھیرنے لگی۔
آج کے دور میں جب دنیاگلوبل ولیج میں سمٹ چکی ہے۔ گلوکاری بہت آسان ہو گئی ہے۔ نئے گلوکار ریاضت کی بجائے پبلسٹی پر زیا دہ توجہ دیتے ہیں۔آج کی دنیا میں تو لگانے والے کو ملتا ہے۔لیکن جب میانوالی کی مٹی سے جنم لینے والے اس لوک فنکار نے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا تو اس وقت صرف محنت اور ریاضت ہی کام آتی تھی۔ اس بے مثال فنکار کی زندگی کا مطالعہ کریں تو پوری زندگی محنت اور ریاضت کی ایک لازوال تصویر کی صورت میں ہمارے سامنے آ تی ہے۔ محمد محمود احمد نے کیا خوب کہا ہے کہ ۔
رات گئے تک جاگنے والے شاعر اور ادیب
اپنی اپنی آگ میں جلتی مائیں اور بیوائیں
بس اسٹینڈ پر شور مچاتے ہاکر اور کلرک
گولیان ٹافیاں بیچنے والے چھوٹے چھوٹے بچے
ٹھنڈے فرش پہ سونے والے زندانوں کے قیدی
برف رُتوں میں لکڑیاں کاٹنے والے لکڑ ہارے
ماتھے پر محراب سجائے درگاہوں کے پیر
گھر کا زیور بیچ کر پڑھنے والے طالب علم
بہنوں کے چِنتے میں ڈوبے غیرت مند انسان
سرحدوں پر پہرا دیتے سوہنے ڈھول سپاہی
عید کے دن بھی روٹی کپڑے سے محروم بھکاری
چاند رُتوں میں ملنے والے عاشق اور معشوق
سَپنے بُنتی دوشیزائیں ، ہجر گزیدہ گھبرو
تیرے گیت سے چُن لیتے ہیں اپنے اپنے آنسو ۔۔۔
اعزازات سے لدے عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی وجہ سے عملی سیاست سے دوری اختیار کر لی تھی اپنے ضلع کے فرزند عمران خان کی وجہ سے سیاست میں دوبارہ سر گرم ہو ئے تو کپتان کی جماعت کا سب سے مقبول ترانہ لکھا ۔ یہ لیجنڈ کپتان کے ایک کھلاڑی کی حیثیت سے تبدیلی کا پیغام لے کر گلی گلی گیا ۔ جدوجہد کی ان کٹھن ساعتون میں کئی بار ایسا مقام بھی آیا جب انہیں سانول کا متذکرہ بالا انٹرویو یاد آیا ہوگا اور مجھے یقین ہے کہ ایسے مواقع پر انہیں اپنے دل سے یہ آواز بھی سنائی د ی ہو گی کہ
اُس نے جب میرے قلم کو توڑ پھینکا اک طرف
مرا بچہ اس گھڑی مجھ کو بڑا زیرک لگا ۔
لیکن خوشبو کو رنگ سے کشید کرنے کا ہنر بھی پروردگارِ فکرو فن انہی لوگوں کو عطاء کرتا ہے جو فصلِِِ خزاں کو موسمِ گل کی ادا قرار نہیں دیتے ۔۔ ایسے نابغہ روزگار خود کو نہیں پوچتے ۔ احساسِ کمتری کی بیماری کوغرورِ انا قرار دے کر سرشت کا حصہ نہیں بناتے ۔۔۔ سو لالہ عطاء اپنے خواب کی تعبیر کے لیئے اب بھی پُر اُمید ہے۔۔اس جدوجہد میں وہ کسی بھی حد تک جانے کے لیئے تیار ہے کہتا ہے کہ ’’ میری ماں نے مجھے بندوق چلانا سکھائی ہے لیکن میرے عشق نے مجھے گلوکار بنادیا ہے ۔ اگر میرے وطن کو میری ضرورت پڑی تو میں بندوق اُٹھانے سے بھی گریز نہیں کروں گا ۔‘‘
بات سانول سے چلی تھی، سانول پر ہی کالم کا اختتام ہونا چاہئیے ۔ سانول کی شادی کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے ۔ دوسروں کی خوشیوں کو پر کیف سُروں اور اپنی پر سوز آواز سے دوبالا کرنے والے عیسیٰ خیلوی کے آنگن میں سانول کی شادی کی شہنائی گونج رہی ہے ۔۔۔۔ سانول کے لیئے نیک تمنائیں لالہ عطاء کے چمن کے دوسرے پھولوں بلاول ، بیٹیوں لاریب اور فاطمہ کے لیئے
ڈھیروں دعائیں ۔۔۔۔۔۔ عطاء اپنی دھرتی اپنی مٹی کے عشق کی پوشاک پہنے ہوئے تبدیلی کے خواب سے جڑا ہوا ہے وہ اپنی آخری ساعتیں اپنی مٹی کو دینا چاہتا ہے ۔۔ آخر میں ان کے لیئے ایک لسان دان کی یہ دعا نقل کرنا چاہوں گا کہ ’’ خدا کرے کہ تُم اپنے لوک گیتوں کے فطری آہنگ پر سانس لیتے رہو ۔ جذبوں کے نئے گیت بنتے رہو ۔ اور انہی کی لے پر نئے سُروں کی اُڑانوں پر آزاد پرندوں جیسے غوطے کھاتے رہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اس لیئے کہ
’’ سو سالاں وچ ہک جمدا اے تیں جیا سوہنا ڈھولا ‘‘

حصہ