ٹرمپ کی پالیسیاں احیاء اسلام کا سبب . تحریر :ِ سہیل احمد اعظمی
ظلم و زیادتی پرمبنی کوئی پالیسی ، ریاست، ملک زیادہ عرصے تک نہیں چل سکتے۔ امریکہ جو کہ دنیا کی سپر پاور اور ایک مضبوط ملک ہے ، نے گذشتہ نصف صدی سے زائد وقت میں دنیا بھر میں اپنی پالیسیوں، جنگی جنون اور مسلم دشمنی کے باعث خصوصا مسلمانوں کا بے دردی سے قتل و عام کیا۔ کروڑوں مسلمانوں و دیگر قوموں کے لوگ اسکی جارحانہ سیاست، کارروائیوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اسکے ظلم و ستم کا سلسلہ دوسری جنگ عظیم میں جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی پر بم گرانے سے شروع ہوا اور تاحال عرا،ق افغانستان، شام، مصر، لیبیا، یمن، صومالیہ، سوڈان او رپاکستان وغیرہ میں جاری ہے۔ لیکن اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ ہر ظلم او رظالم کا ایک دن خاتمہ ہونا ہوتاہے۔ معلوم ایسا ہوتاہے کہ ٹرمپ کی صورت میں جو ایک مسخرا، بدزبان اور یہودی لابی کا صدر امریکہ کو ملا ہے ، نے اپنے امریکہ کے حصے بخرے کرنے کاکام ، اپنی مسلم کش پالیسیوں ، جارحانہ بیانات اور بدتمیز زبان کے ذریعے شروع کردیاہے۔ دنیا بھر میں ٹرمپ کے خلاف مسلمان تو کم ان کے اپنے مذہب کے لوگ زیادہ مظاہرے کررہے ہیں۔ سات ملکوں پر پابندی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے امریکہ میں ہورہے ہیں۔ امریکی عدالت نے امریکی صدر کے حکم نامہ کو منسوخ کردیاہے۔ اس فیصلے کے خلاف صدر کی اپیل بھی خارج ہوگئی ۔ اب سنا ہے کہ ٹرمپ نے امیگریشن سے متعلق نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ ٹرمپ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نیا آرڈر امریکہ کو محفوظ بنانے میں مدد دے گا۔ کوئی ٹرمپ اور اس کے گذشتہ صدر سے پوچھے کہ 11ستمبر سے پہلے دنیا زیادہ محفوظ تھی یا اب۔یقیناًجواب یہی ہوگا کہ اب زیادہ غیر محفوظ ہے۔ ٹرمپ کی موجودہ مسلم کش پالیسیوں کے باعث احیاء اسلام میں مدد مل رہی ہے۔ امریکہ میں خصوصا اور دنیا بھر میں ائیرپورٹس پر باجماعت نما زکے مناظر سوشل میڈیا اور اخبارات ، الیکٹرانک میڈیا کی زینت بن رہے ہیں۔ جس کے باعث غیر مسلم اسلام اور مسلمانو ں کے بارے میں زیادہ جستجو میں لگ گئے ہیں۔ کیونکہ نماز دین کا ایک ایسا رکن ہے جو دیکھنے والوں کو متاثر کرنے کے علاوہ انہیں روحانی سکون مہیا کرتاہے۔ بدقسمتی سے آج مسلمان نوے فیصد نماز جیسے عمل کو چھوڑ بیٹھی ہے ۔ اگر صرف پچاس فیصد مسلمان نما زپڑھنا شروع کردیں تو یہودیوں کی اپنی کتب کے مطابق کفر کی ترقی اور مسلمانوں کی تنزلی رک جائے گی اور اگر اکاون فیصد مسلمان نماز شروع کردیں تو کفر کی تنزلی شروع ہوجائے گی او مسلمانو ں کی ترقی لیکن آج ہم اسلام کے اس عظیم تحفے سے غافل ہیں۔ امریکہ کے ہوائی اڈوں پر نما زکے مناظر پوری دنیا کا میڈیا دکھا رہاہے۔ کیمرہ مینوں، صحافیوں کے قلموں، تاثرات نماز کے ذریعے دعوت کے عمل کو پوری دنیا میں پھیلارہے ہیں۔ ایسا ہی کچھ 11 ستمبر کے واقع کے بعد ہوا تھا جب صدر بش نے مسلمانوں کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کرکے افغانستان کے نہتے معصوم مسلمان جنکا 11 ستمبر سے کوئی لینا دینا نہ تھا پر جنگ تھونپ دی۔ 28ملکوں کوہم نوالہ ہم پیالہ بناکر افغانستان میں لاکھوں افراد کو گھر سے بے گھر کیا اور لاکھوں کا قتل عام۔ اپنی معیشت کا بھٹہ گول کیا اور آج چائنہ کا ملین آف ڈالر کا مقروض ہوگیا۔ پاکستان نے بھی امریکہ کا ساتھ دیا او راپنے ملک کو دہشت گردی کا مرکز بناکر کھربوں روپوں کے معاشی نقصان کے علاوہ ساٹھ ہزار پاکستانی مسلمانوں کی قربانی دی لیکن امریکہ اب بھی خوش نہیں ہے۔ اسکا ڈو مور کا مطالبہ اپنی جگہ پر قائم ہے۔ بات ہورہی تھی 11ستمبر کے بعد کے واقعات کی مسلمانوں، اسلام کے خلاف منفی پراپیگنڈہ اور کروسیڈ جنگ کے بش کے اعلان نے دیگر مذاہب کے لو گوں کو اسلام کے مطالعہ کی طرف مبذول کیا۔ قرآن کے نسخے امریکہ ، یورپی ممالک میں ختم ہوگئے ، سعودی عرب، ترکی او رپاکستان وغیرہ سے قرآن روانہ کئے گئے جن کے مطالعہ کے اثرات گذشتہ سولہ سالوں سے ہم دیکھ رہے ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ خصوصا نوجوان نسل اسلام قبول کررہی ہے۔ ٹرمپ کے حالیہ اقدامات کے اثرات بھی ایسے ہی پیدا ہورہے ہیں۔ امریکی صدر کی پالیسیوں نے اسے دنیا میں تنہا کرنے کا سلسلہ شروع کردیاہے۔ اسکے اپنے ملک میں بھی ریاستوں کی علیحدگی کی تحریکیں دوبارہ سر اٹھارہی ہیں۔ کینیڈا، برطانیہ، ترکی، وغیرہ نے سات ملکوں کے شہریوں پر پابندی کو ظالمانہ قرار دیاہے۔ برطانیہ میں لاکھوں لوگوں نے دستخطی مہم کے ذریعے ٹرمپ کے حالیہ دورہ برطانیہ کی مخالفت کی اسے برطانیہ آنے سے روکنے کا مطالبہ کیا۔ میکسیکو کے سابق صدر وینس فوکس نے امریکی صدر کو اس کی اپنی زبان میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ تم جیسا کروگے ویسا بھروگے۔ سابق میکسیکن صدر نے پہلے بھی اپنی الیکشن مہم کے دوران ٹرمپ کی حرکتوں کو بچانہ قرار دیتے ہوئے اسے بیوقوف انسان قرار دیاتھا ادھر امریکہ میں ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث پھوٹ پڑتی نظر آرہی ہے۔ امریکی عدالتوں سے تو ٹرمپ کو منہ کی کھانی ہی پڑی اب ریاست کیلی فورنیا کی علیحدگی کی تجویز تحریک میں بدلتی نظر آرہی ہے۔ اس تحریک کو کامیاب بنانے کیلئے ساٹھ لاکھ شہریوں کے دستخط لئے جائیں گے وہاں کی عوام نے حالیہ امریکہ الیکشن میں بھی ہیلری کلٹن کو ٹرمپ کے مقابلے میں چالیس لاکھ ووٹ زیادہ دئیے تھے اب انہوں نے علیحدگی کی تجویز امریکی وزارت خارجہ میں جمع کرادی ہے۔ ٹرمپ کی صورت میں ایسا صدر اللہ نے امریکہ پر مسلط کیا ہے جو اس ظالم ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے دم لے گا۔ امریکہ جو کہ دنیا بھر میں امن کا نام نہاد داعی بنا ہوا ہے خود سب سے بڑا دہشت گردی ملک ہے۔ اس نے اپنے ہی ملک میں ایک کروڑ ریڈ انڈین سیاہ فاموں کا صفایا کیا ۔ اسرائیلی ظلم و ستم کی سرپرستی بھی فلسطین میں وہی کررہاہے۔ افغانستان، عراق، شام، مصر، یمن، لیبیا کی تباہ و بربادی کا بھی وہ ذمہ دارہے۔ لیکن آخر کب تک اب اسکی اپنی عوام یہود نواز حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ مسلمان ملکوں کا تو حال نہ پوچھیں وہ مذمتی بیان تک دینے کو تیار نہیں۔ امریکہ میں ٹرمپ کی مسلمانوں کے خلاف جاری سازشیں اور جارحانہ متعصب پالیسیاں اب سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں۔ برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق ٹرمپ نے انسداد پر تشدد انتہا پسندی کا پروگرام کا نام تبدیل کرکے انسداد بنیاد پرست اسلامی انتہاپسندی رکھنے کیلئے مشورے شروع کردئے ہیں جس سے مسلم دشمن قوتوں کو مسلمانوں ان کی املاک ، مساجد، مدارس ، گھروں، تجارتی مراکز پر حملوں کی کھلی چھٹی دی جائے گی۔ ٹرمپ اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے والے افراد اور تنظیموں کو فنڈنگ بھی کررہے ہیں ان کے ایسے احکامات ، سوچ امریکہ میں جہاں ایک طرف انتشار پھیلائے گی وہاں پر امریکہ کو تنہا کرنے اور معاشی و اقتصادی طورپر تباہ و برباد کرنے میں مددگار ہوگی اور یہ دنیا کا مسلمہ اصول ہے کہ جس چیز کو جتنا دباؤگے اتنا ہی ابھرکر سامنے آئے گی۔ اسلام کی حقانیت، سچائی سے کسی کو انکا رنہیں ہے۔ اسلام کے خلاف ماضی میں بھی پراپیگنڈہ ، اقدامات ، اسکے فروغ و احیاء کا باعث بنیں اب بھی ایسا ہورہاہے۔ مسلمان جو دعوت و تبلیغ کے اہم فریضہ سے غافل ہیں ، کو ٹرمپ کا شکر گزار ہونا چاہئے جو سابق صدر بش کے بعد دوسرے صدر ہیں جو یہ فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔

حصہ