پاکستان تحریک انصاف سے عمران خان کے دستِ راست
سیف اللہ خان نیازی کی رُخصتی
رپورٹ/ انوار حسین حقی
_____________________
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی جنرل سیکرٹری جہانگیر خان ترین کے تازہ ترین اعلان کے مطابق سابق ایڈیشنل جنرل سیکرٹری سیف اللہ خان نیازی کی جگہ خیبر پختونخواہ کے علاقے مردان سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر عاطف خان کو پارٹی کا مرکزی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری بنا دیا گیا ہے ۔ بظاہر یہ ایک عام سا اعلامیہ ہے جسے پاکستان تحریک انصاف کا اندرونی معاملہ قرار دے کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن درحقیقت اس فیصلے کے پاکستان تحریک انصاف کے طرزِ سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے اور پارٹی کے نئے رُجحان کا تعین ہو گا ۔ جہانگیر خان ترین کی طرف سے کیئے جانے والے اعلان میں خاص طور پر سیف اللہ نیازی کی جگہ کے الفاظ استعمال کیئے گئے جس سے ملک بھر کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے لاکھوں کارکنوں کو یہ پیغام دیا جانا مقصود ہے کہ اب سیف اللہ نیازی کا پارٹی معاملات سے کوئی تعلق نہیں رہا ۔
سیف اللہ خان نیازی عمران خان کے ان قریبی ساتھیوں میں نمایاں ہیں جو پارٹی کے نہ صرف بانیوں میں شامل ہیں بلکہ پی ٹی آئی کی 20 سالہ جدوجہد کا ہراول دستہ ہیں ۔انہیں عمران خان کے بہی خواہوں میں ایک مضبوط پوزیشن ہمیشہ حاصل رہی ۔ عمران خان نے جب پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی تو سیف نیازی کی عمر بیس سال کے قریب تھی وہ امریکہ سے پاکستان آئے اور پھر عمران خان کے ہو کر رہ گئے ۔ انہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی سنہری 20 سال عمران خان کے خواب کی تعبیر کی جدو جہد کی نذر کر دیئے ۔ انہیں عمران خان کی بہت زیادہ قربت حاصل رہی عمران خان کے بہت سے ذاتی معاملات میں سیف نیازی ان کے ساتھ رہے ۔
۔ 2013 ء کے عام انتخابات کے بعد صوبہ کے پی کے میں قائم ہونے والی تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے معاملات کی نگرانی عمران خان کی جانب سے انہیں سونپی گئی تھی جو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویزخٹک کو پسند نہیں تھی ۔ سیف اللہ خان نیازی نے صو بہ خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی نظام کو عمران خان کی اُمنگوں اور پارٹی منشو کے قالب میں ڈھالنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن انہیں صوبائی حکومت اور پارٹی میں موجود روایتی سیاسی قوتوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ۔ کے پی کے کی حکومت میں جہانگیر ترین کے اثر و رسوخ کی راہ میں رکاوٹ سمجھے جانے والے سیف اللہ نیازی ہر لمحہ عمران خان کے مشن اور عز م کی تکمیل کے لیئے سرگرداں رہے وہ پارٹی اجلاسوں میں کھری بات کرنے کی وجہ سے بھی بہت سی قوتوں کی آنکھوں کا کانٹا بنے رہے ۔
پارٹی کا ایڈیشنل جنرل سیکرٹری مقرر ہونے کے بعد جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین اور ان کے درمیان اختلافات کی خیلیج گہری ہوتی چلی گئی تھی جس پر انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ پارٹی چیئر مین عمران خان کو بھجوادیا تھا ۔ عمران خان نے انہیں استعفیٰ واپس لینے کا کہا تو سیف نیازی نے موقف اختیار کیا کہ وہ عہدے کے بغیر بھی آپ کے مشن کے لیئے اُسی طرح سرگرم رہیں گے جس طرح وہ گذشتہ20 سالوں سے آپ کے ساتھ ہیں ۔ یہ استعفیٰ کافی دنوں تک بنی گالہ تک رسائی رکھنے والوں کے درمیان رہا ۔ پھر اچانک ایک رات پارٹی کی ایک مخصوص لابی نے اس کی خبر میٖڈیا تک پہنچا دی تھی ۔
پارٹی کے معاملات سے باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ سیف اللہ نیازی اپنی شادی کے معاملات ایک طویل عرصہ سے ٹالتے چلے آر ہے تھے دوستوں کے استفسار پر اکثر کہا کرتے تھے کہ میں شادی اُس وقت کروں گا جب عمران بھائی وزیر اعظم بن جائیں گے ، ان کے استعفیٰ کی خبر عام ہوئی اور پارٹی کے ترجمان نعیم الحق کے ساتھ ساتھ خود سیف اللہ نیازی نے بھی اس کی تصدیق کر دی تو انکے وہ دوست جو یہ جانتے تھے کہ سیف اللہ نیازی جس قدر دھُن کے پکے ہیں اسی طرح ضد کے پکے بھی ہیں ۔ ان سب نے انہیں شادی کرنے کا مشورہ دیا ۔ سیف اللہ خان نیازی کی شادی گذشتہ اسلام آباد میں بخیر و خوبی انجام پائی عمران خان ان کی بارات اور ولیمہ میں اپنے تمام ساتھیوں سمیت شریک ہوئے ۔ اس شادی کی سب سے اہم بات یہ ہے اس میں خیبر سے کراچی تک کے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں نے بڑی تعداد نے شرکت کی جس پر عمران خان نے سیف نیازی کو خوش ہو کر مبارکباد دیتے ہوئے کہا تھا ’’ شادی کی مبارک ہو اور جلسے کی بھی ‘‘۔
سیف اللہ نیازی شادی کے بعد تین ہفتوں کے لیئے ترکی چلے گئے جس کی وجہ سے ان کے استعفیٰ کی منظور یا واپسی کا معاملہ التواء کا شکار ہو گیا تھا ۔ ایک ہفتہ قبل وہ پاکستان واپس آئے ۔ دو روز قبل انہیں ایک ایس ایم ایس کے ذریعے پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی لیکن وہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے جس کے بعد جہانگیر ترین کی جانب سے ان کی جگہ عاطف خان کی نامزدگی کر دی گئی ۔
سیف اللہ خان نیازی کی پارٹی معاملات سے یکسر لاتعلقی پارٹی معاملات میں جہانگیر ترین گروپ کی مضبوط گرفت کی آئینہ دار ہے جس کا پارٹی کے اندرونی معاملات خصوصاً صوبہ کے پی کے پر گہرا اثر پڑے گا ۔ سیف اللہ نیازی کی جانب سے ابھی مستقبل کی ترجیحات سامنے نہیں آئیں اس لیئے ان کے مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل کے بارے میں ابھی یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ تاہم تازہ ترین صورتحال سے پارٹی کے نئے رجحان کا بخوبی اندازہ ہو رہا ہے ۔

حصہ