شہنشائے لوک موسیقی عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا خصوصی انٹرویو (ملاقات انوار حسین حقی )
*عالمگیر شہرت یافتہ لوک فنکار عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے کہا ہے کہ وہ اپنے علاقے میانوالی کی پسماندگی دور کرنے کا عزم لے کر سیاست میں آئے ہیں۔ *عمران خان جیسا سچا اور کھرا لیڈر ہی پاکستان کے حالات بدل سکتا ہے۔ بھٹو صاحب سے مایوس ہو کر سیاست چھوڑی ۔ عمران خان کی ترغیب پر سیاست کو دوبارہ اپنایا۔* شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر میں مجھ سمیت سب کا حصہ ہے۔
*عمران خان نے حکم دیا تو الیکشن ضرور لڑوں گا ۔۔۔ میں دنیا کی ہر خوبصورت چیز میانوالی لے کے جانا چاہتا ہوںِ
____________________________________
کسی عہدے اور منصب کی کوئی لالچ نہیں ۔ اپنے علاقے کی خدمت کرنا چاہتا ہوں ۔ جب میں گلوکار تھا تو اس وقت بھی میں چاہتا تھا کہ دنیا کی ہر خوبصورت اور پائیدار چیز کو میانوالی لے جاؤں ۔ میں جب یہ کہتا تھا کہ ’’ تینوں لے کہ جانا ہے میانوالی ‘‘ تو اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ میں کسی دوشیزہ سے مخاطب ہوں۔ بلکہ میں دنیا کی ہر خوبصورت چیز میانوالی لے کے جانا چاہتا تھا۔
میانوالی میں ’نیلاب ڈاٹ کام ‘‘ کے لےئے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عطاء اللہ خا ن عیسیٰ خیلوی نے کہا کہ جب گھر میں آگ لگی ہو فرد چاہے کسی شعبے کا ہو اُسے آگ کو بجھانے کے لئے آگے آنا پڑتا ہے۔میں بطور آرٹسٹ اور انسان جب پوری دنیا گھوم کر اپنے گھر واپس آتا تھا تو مجھے میرا گھر ’’ میانوالی ‘‘ بہت پیچھے کھڑا محسوس ہوتا تھا۔ہر معاملے میں یہاں پسماندگی ہے۔ہسپتال ہے تو ڈاکٹر اور نرسیں نہیں ہیں۔بہت سارے مسائل ہیں۔اس لئے سیاست میں آنا پڑا۔عمران خان جیسا لیڈر صدیوں بعد نصیب ہوتا ہے۔میں نے شوکت خانم کی تعمیر کی مہم کے دوران عمران خان کے ساتھ پوری دنیا میں سفر کیا۔ میں نے نبی کریم ﷺ کے فرمان کی روشنی میں دوران سفر عمران خان کو پرکھا تو میں نے عمران خان کو ایک سچا اور کھرا شخص پایا۔کرپشن سے پاک ۔ جو کہتا ہے اس پر نہ صرف قائم رہتا ہے بلکہ ڈٹ جاتا ہے۔ ایک خوبصورت لیڈر میں اس بہتر کوئی بات نہیں ہو سکتی۔
میں جب کالج میں پڑھتا تھا تو بھٹو صاحب کے ساتھ کام کیا ۔ جب میں نے اپنے آپ کو ذولفقار علی بھٹو کا ورکر ڈکلےئر کیا تو گھر اور خاندان والوں نے وب خبر لی ۔ کیونکہ وہ سب مسلم لیگی تھے۔انتخابات میں بھٹو صاحب نے کلین سویپ کیا۔لیکن پھر انہوں نے نمبرگیم کے چکر میں ہمارے علاقے کے اس وڈیرے کو اپنے ساتھ ملا لیا جسے ہم اپنا دشمن سمجھتے تھے اور اس کے مخالف تھے۔ وہ دن اور آج کا دن میں نے سیاست سے کنارہ کر لیا تھا۔ لیکن عمران خان نے ہمیں سمجھایا کہ ’’ سیاست بُری نہیں ہے۔ اسے کرنے والے گندے ہو سکتے ہیں۔اگر ہم صحیح سیاست کریں تو یہ عبادت ہے۔اللہ پاک اور اس کے حبیب ﷺ کو پسند ہے کہ اس کی مخلوق کی خدمت کی جائے۔‘‘ عمران خان نے مجھے کئی مرتبہ کہا کہ سیاست میں آجائیں لیکن میں نظر انداد کرتا رہا۔
میں اب سیاست میں آگیا ہوں ، یہ ٹھیک ہے کہ میں گانے بجانے والا آدمی ہوں ۔ اس کے علاوہ میں دل بھی رکھتا ہوں۔اپنے ملک کے لئے اپنی دھرتی کے لئے۔ مجھے کسی ٹکٹ کی ضرورت نہیں ہے۔میرے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے جیسے عمران خان صاحب پاس ہے۔ میں عمران خان کے ساتھ ایک ورکر کی طرح کھڑا ہوں ، زندگی بھر کھڑا رہوں گا۔عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے مزید کہا کہ میرا علاقہ میانوالی بہت پسماندہ ہے اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو یہاں کی قیادت سنبھالے رہے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ عمران خان قوم کے لئے اللہ پاک کا انعام ہیں ۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے حوالے سے گائے جانے والے ترانے کے بارے میں بتایا کہ ’’ جب آئے گا عمران ۔ سب کی جان بنے گا نیا پاکستان ‘‘ گایاتو مجھے بڑا لطف آیا ۔ میں اسلام آباد میں تھا میں نے عمران خان کو فون کیا اور کہا کہ میں ملنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا گھر آجاؤ ۔ میں اپنے بیٹے سانول کے ساتھ عمران خان کے گھر گیا وہاں پر ہارون الرشید صاحب بھی موجود تھے۔ میں نے خان صاحب سے کہا کہ گھر میں سی ڈی پلےئر ہے تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہے ۔ نوکر سی ڈی پلےئر لے آیا میں خان صاحب کو گیت سنایا تو وہ بہت خوش ہوئے ۔ انہوں نے گیت کو تحریک انصاف کی ویب سائیٹ پر جاری کروایا۔پھر یہ پورے پاکستان میں گایا گیا میں خوش ہوں کہ جناب عمران خان کیلئے میں نے یہ گیت گایا۔ اس کے بعد مجھے کسی دوسرے کے لئے گانے کی خواہش نہیں ہوئی ۔

حصہ