اسلام آباد میں روزمرہ کی گفتگو پانامہ لیکس اور ڈان لیکس تک محدود
رپورٹ:. انوار حسین حقی
__________________________________________
ملک کے دیگر حصوں کی طرح وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں بھی روز مرہ کی گفتگو پانامہ لیکس کیس اور ڈان لیکس کے گرد گھومنے لگی ہے ۔ سپریم کورٹ کے فل بنچ میں پانامہ لیکس پر عمران خان ، سراج الحق اور شیخ رشید احمد کی درخواستوں پر سماعت کے دوران وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بچوں کی جانب سے جواب داخل کیئے جانے کے بعد سماعت 15 نومبر تک ملتوی کر دی گئی ہے ۔ لیکن اسلام آباد کے سرکاری ، سیاسی اور بیوروکریسی کے حلقوں میں نہ صرف سنسنی بر قرار ہے بلکہ سیاسی تناؤ میں بھی اضافے کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ پاکستان تحرک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی رہائش گاہ ’’ بنی گالہ ‘‘ پانامہ لیکس کے حوالے سے وزیر اعظم مخالف سرگرمیوں کا مرکز بنی ہوئی ہے جبکہ وزیر اعظم ہاوس میں میان نواز شریف اور ان کے معاونین کی ٹیم معاملے سے نمٹنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے ۔ دونوں جانب سے معاملے کو بہتر انداز میں نمٹنے کی خواہش اور کوششوں کا اظہار سامنے آ رہا ہے ۔ مبصرین اور تجزیہ نگار پانامہ لیک پر قانونی جنگ کو فریقین کے مابین ایک اعصاب شکن معرکہ قرار دے رہے ہیں ۔ اس معاملے کے انجام کے پاکستان کی قومی سیاست پرمختلف نوعیت کے اثرات مرتب ہوں گے ۔
سیاسی، قانونی حلقوں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی اور عام آدمی بھی اس معاملے میں بہت زیادہ دلچسپی لیتا نظر آتا ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ ن کے کارکنوں کے درمیان جگہ جگہ بحث مباحثوں کا سلسلہ زور پکڑتا نظر آرہا ہے ۔ وفاقی دارلحکومت کے خنک ہوتے موسم میں سیکورٹی لیکس کے معاملے کی گرمی بھی صاف دکھائی دیتی ہے ۔ ڈان لیکس کے معاملے پر سابق وزیر اطلاعات کی قربانی کے بعد معاملے سے ان کی بریت کی باتیں بھی ہونے لگی ہیں حکومت نے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن کے قیام کا جو اعلان کیا ہے سیاسی جماعتوں کی جانب سے اُس پر شدید قسم کے تحفظات سامنے آئے ہیں ۔
قومی سیاست اور روز مرہ کے معامللات میں کلیدی موضوع کی حیثیت اختیار کرنے والے دونوں لیکس موضوعات میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے اس حوالے سے ہر کسی کی اپنی اپنی اطلاعات اور نقطہ نظر کے حوالے سے تبصرے جاری ہیں ۔ ان دونوں معاملات نے قومی زندگی کے معمولات کو بری طرح الجھایا ہوا ہے ۔ عمران خان کی جانب سے احتجاج موخر کرنے کے اعلان کے بعد قومی زندگی میں ٹہراو پیدا ہونے کی جو اُمید کی جارہی تھی ۔عملاً اُسکے اثرات نظر نہیں آر ہے ہیں ۔
خیبر پختونخواہ حکومت کی جانب سے سی پیک پر اپنے تحفظات کے ہمراہ عدالت کا دروزاہ کھٹکٹانے کے اعلان نے وفاقی حکومت کو نئی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے ۔ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے پشاور ہائی کورٹ میں سی پیک کے مغربی روٹ کے حوالے سے رٹ دائر کر دی ہے ۔ اسد قیصر نے پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’ سی پیک پورے پاکستان کا منصوبہ ہے تحفظات دور کرنے کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکٹایا ہے ۔خیبر پختونخواہ کی حکمران جماعت پی ٹی آئی اور اے این پی سمیت تمام جماعتوں کو سی پیک کے مغربی روٹ کے حوالے سے اعتراضات ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اعتراضات وفاقی حکومت سمیت تمام متعلقہ فورموں پر متعدد بار اُٹھائے گئے لیکن حکومت نے اس طرف کو ئی توجہ نہیں دی ۔
’’پختونخواہ اولسی تحریک‘‘ کے سربراہ اور کوریڈور فرنٹ کے رہنماء ڈاکٹر سید عالم محسود اور تحریک کی سرگرم رہمناء محترمہ فرزانہ زین جو مغربی روٹ کا مقدمہ لڑنے میں سب سے آگے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخواہ کے عوام وفاقی حکومت سے با الکل ہی مایوس نظر آتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم اور صوبے تمام موثر قوتیں پرویز خٹک حکومت سے یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ عوامی جموریہ چین کی حکومت کو براہ راست خط لکھا جائے جس کے ذریعے پڑوسی اور دوست ملک کو بتایا جائے کہ ہم موجودہ کاریڈور کو ’’ چائنہ پنجاب اکنامک کاریڈور ‘‘ سمجھتے ہیں ۔ ہم سے آل پارٹیز کانفرنس ( منعقدہ 15 فروری2016 )میں جو وعدے کیئے تھے خاص کر حویلیاں ، صوابی اور پشاور تک جس روٹ کی تعمیر کا جو وعدہ کیا تھا وہ پورا نہیں کیا جا رہا ہے ۔ صوبے میں لوگوں کی اکثریت حیدر خان ہوتی ، محمود خان اچکزئی ، آفتاب احمد شیر پاؤ کے بارے یہ کہنے لگے ہیں کہ جس طرح افغان جنگ کے دوران سرحدی گاندھی کے خاندان نے پختونوں سے منہ موڑ لیا تھا اُسی طرح آج یہ لیڈر بھی ذاتی اور سیاسی مفادات کی خاطر پختونوں کے حقوق کے معاملے پر چُپ سادھے ہوئے ہیں ۔ سید عالم محسود اس شاہراہ کے ٹھیکے بغیر ٹینڈر کے پنجاب گروپس کو دینے کو بھی انصاف کے منافی قرار دیتے ہیں ۔ ایسی صورتحال پر محترمہ فرزانہ زین کا یہ تبصرہ غور طلب ہے کہ ’’ وزیر اعلیٰ پنجاب بڑے طمطراق سے کہتے پھر رہے ہیں کہ چین کو ہماری آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی ۔ لیکن اصل صورتحال کچھ یوں ہو گی آپ کو پنجاب کی آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی کہ آپ لوگوں نے چھوٹے صوبوں کی حد سے زیادہ حق تلفی کی اس سے جو نفرت پھیلے گی اس کے ذمہ دار آپ لوگ ہوں گے ۔
جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں اس منصوبے کا آغاز ہوا تھا ، آصف علی زرداری کے دورِ صدارت میں اس کے خدوخال واضح ہوئے اور اسے ’’ کاشغر گوادر اکنامک اینڈ پاور کوریڈور‘‘ کا نام دیا گیا اُس وقت اس کے مغربی روٹ میں خنجراب، گلگت ، بلتستان ، شاہراہِ قراقرم، تھا کوٹ، بٹگرام، مانسہرہ ، ایبٹ آباد ، حویلیاں ، ہری پور، صوابی ، اور ایم ون سے پشاور کے علاقے شامل تھے ۔ ۔ لیکن موجودہ حکومت بر سرِ اقتدار میں آنے کے بعد اس روٹ میں کپٹن صفدر اور مولانا فضل الرحمن کی منشاء کے مطابق تبدیلی کر دی گئی ۔
صوبہ سرحد کے وزیر مال علی امین گنڈہ پور نے ’’جرات ‘‘ کو بتایا ہے کہ پاک چائنہ کوریڈور کے تبدیل شدہ روٹ کی حتمی منظوری سے پہلے وفاقی حکومت نے کپٹن صفدر کے ہمراہ مولانا فضل الرحمن کو اس منصوبے کا فضائی جائزہ لینے کے لیئے ہیلی کاپٹر بھی فراہم کیا تھا ۔ سی پیک پر وفاقی حکومت نے جس طرح مولانا فضل الرحمن کی خواہشات کا خیال رکھا ہے اور صوبے کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف اور دوسری موئژ قوت اے این پی کو جیسے نظر انداز کیا وہ کسی بھی وفاقی حکومت کو زیب نہیں دیتا ۔ اس منصوبے کے مغربی روٹ پر صوبہ کے پی کے میں بہت زیادہ تحفظات پائے جاتے ہیں ۔ موجودہ نقشے کے مطابق یہ شاہراہ ہزارہ ڈویژن ( کپٹن صفدر ) کے علاقے سے گذرتی ہوئی پنجاب میں داخل ہو کر میانوالی کے راستے دریائے سندھ کو عبور کرتی ہوئی کنڈل کے تاریخی قصبے کے قریب سے صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں عین اُس مقام پر داخل ہوتی ہے جس کے چند میل بعد مولانا فضل الرحمن کے آبائی علاقہ عبد الخیل ( پنیالہ ) کی حدود شروع ہو جاتی ہیں ۔ اب اسے مغربی روٹ کہا جا رہا ہے۔ جو ڈی آئی خان سے ہوتا ہوا پنجاب میں داخل ہوتا ہے اور پنجاب سے پھر ہزارہ کے نزدیک خیبر پختونخواہ میں داخل ہو جاتا ہے، اسطرح سے یہ تقریبا15 سے 20 فی صد خیبر پختونخواہ میں جائے گا ۔
کے پی کے کی حکومت کی جانب سے سی پیک کے منصوبے پر عدالت کا دروازہ کھٹکٹانے کے معاملے پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی جانب سے یہ کہنا کہ اس سے خود کے پی کے کی حکومت کے مشکلات پیدا ہوں گی خاصا معنی خیز ہے ۔
اسلام آباد کے سیاسی اور سفارتی منظرنامے پر لیکس کے معاملات اور سیاسی سرگرمیاں چھائی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے کنٹرول لائن پر بھارت کی جانب سے ہونے والی شر پسندی اور کشمیر میں بھارتی مظالم کا معاملہ پس منظر میں جاتا نظر آ رہا ہے گذشتہ دنوں حریت لیڈر یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کی جانب سے کیا جانے والا مظاہرہ بھی پاکستا نی حکومت اور قوم کی جانب سے بھر پور توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہا ۔
ملک کی سیاسی سورتحال میں موجود کشدیدگی اور تناؤ قومی معاملات کو بُری طرح متائثر کر رہا ہے ۔ ملک کے تمام اداروں اور طبقات کو صورتحال کو مثبت رنگ دینے کے لیئے اتحاد و اتفاق کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا ۔

حصہ