اسلام آباد.
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے 2نومبرکو دوپہر2بجے اسلام آباد بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کا نام پانامہ لیکس میں ثابت ہوچکا ہے اور نوازشریف کے پاس اب دوآپشنز ہیں ، استعفیٰ ددیں یا پھر تلاشی! گر چوری نہیں کی تو تلاشی میں کوئی مسئلہ نہیں ، یہ نہیں ہوسکتا تلاشی بھی نہ دو اور استعفیٰ بھی نہ دو،، یہ فیصلہ کن مرحلہ ہے اس کے بعد کوئی دھرنا نہیں ہو گا، تمام شہریوں کو دعوت دیتا ہوں ہمارے ساتھ چلیں ،اگر مجھے نظر بندکیاگیاتو پھر کیایہ حکمران اس کا ردعمل برداشت کرسکیں گے ،یہ ان کے لئے مشکل ہوگا، یقین دلاتا ہوں ہمارا احتجاج پر امن رہے گا لیکن اگر کوئی زبردستی کی کوشش کی گئی تو نقصان حکومت کا ہی ہوگا،ہم حکومت کو نہیں چلنے دینگے ۔ پیر کو یہاں بنی گالہ میں اپنی رہائش گاہ پر کورکمیٹی کے اجلا س کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ2 نومبر دوپہر2بجے اسلام آباد بند کرنا شروع کر دیں گے ، جمہوریت میں ہم احتجاج کر سکتے ہیں ۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے 6 ماہ تک کوشش کی کہ پاناما لیکس پر وزیراعظم نواز شریف کا احتساب ہو کیونکہ وزیراعظم کا نام پاناما لیکس میں آیا ہے اور ہم نے پوری کوشش کی کہ معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہو جائے۔ انہوں نے کہاکہ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے تحریک انصاف نے پارلیمنٹ میں آواز اٹھائی، پبلک اکانٹس کمیٹی میں معاملے کو اٹھایا، ٹی او آرز کمیٹی میں تعاون کیا، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا رویہ بھی دیکھا اور الیکشن کمیشن کا رویہ دیکھ لیا جو اس معاملے کی لمبی لمبی تاریخیں دے رہا ہے۔ ہمارا حق ہمیں نہیں مل رہا اور وزیراعظم کے خلاف پانامہ لیکس کے ثبوت پکڑے گئے ہیں ، حکومت کو پیغام ہے کہ آپ پر امن رہیں گے تو ہم بھی پر امن رہیں گے کیونکہ ملک کا المیہ یہ ہے کہ طاقتور اور کمزور کے لئے الگ الگ قانون ہیں ، پارلیمنٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کا رویہ بھی دیکھ لیا ، ادھر سپریم کورٹ نے بھی کہا ہے کہ اربوں روپے کی کرپشن میں لوگ نہیں پکڑے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کاروائی کی بجائے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں ، کیا ہم کرپٹ مافیا کی غلامی کرتے رہیں گے ، ہم نے تمام جماعتوں کو ساتھ لیکر چلنے کی پوری کوشش کی ہے ، آصف زرداری اور نوازشریف ایک پلیٹ فارم پر نظر آرہے ہیں ، سیاسی جماعتوں میں کرپشن کے خلاف اقدامات کی دلچسپی نہیں ہے ، جو ردعمل ہوگا آپ کی حکومت ہی چلی جائے گی ، وارننگ دیتا ہوں یہ 2014والی پارٹی نہیں آپ کو ہی نقصان ہو گا، حکومت جو بھی راستہ لے ہم بھی تیار ہیں ، احتساب سے ڈرنے والی جماعتیں ہمارے ساتھ کیسے چلیں گی ، ملک کو بچانے کے لئے قربانی دینی پڑے گی ۔ عمران خان نے کہا کہ ملک بچانے کے لئے شہریوں کو چھوٹی چھوٹی قربانی دینی پڑے گی ، حسنی مبارک ، صدام حسین کی ڈکٹیٹر شپ میں مظاہرے نہیں ہوتے ، یہ فیصلہ کن مرحلہ ہے اس کے بعد کوئی دھرنا نہیں ہو گا اور اس میں ہم آخری حد تک جائیں گے تمام شہریوں کو دعوت دیتا ہوں ہمارے ساتھ چلیں ، وزیراعظم کے پاس دو آپشن ہیں ، استعفیٰ دو یا پھر تلاشی دو، اگر چوری نہیں کی تو تلاشی دینے میں مسئلہ کیا ہے ، یہ نہیں ہوسکتا تلاشی بھی نہ دو اور استعفیٰ بھی نہ دو۔انہوں نے کہا کہ اگر مجھے نظر بند کیا گیا تو پھر کیا یہ ردعمل برداشت کر سکیں گے ؟ ہم حکومت کو نہیں چلنے دیں گے ، میاں صاحب تو جیلوں سے ڈرتے ہیں ، آصف زرداری نے کہا کہ نوازشریف نے جیل ٹشو سے بھری ہوئی تھی ۔انہوں نے کہاکہ اس قسم کی باتیں سننے کو مل رہی ہیں کہ حکومت ہمارے دھرنے کو زبردستی ناکام بنانے کی کوششیں کر رہی ہے تو ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ احتجاج ہمارا حق ہے اور یقین دلاتا ہوں کہ احتجاج پر امن رہے گا لیکن اگر کوئی زبردستی کی کوشش کی گئی تو نقصان حکومت کا ہی ہوگا، ابھی ہم صرف نواز شریف کے استعفی کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن اگر ہمیں روکا گیا تو پوری حکومت چلی جائے گی۔تحریک انصاف کی سولو فلائٹ کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ ہم نے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی لیکن شاید دوسری جماعتیں حکمرانوں کا احتساب چاہتی ہی نہیں، پیپلز پارٹی کے کچھ رہنما اور کارکن بھی چاہتے ہیں کہ وزیراعظم نواز شریف کا احتساب ہو لیکن آصف زرداری نواز شریف کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ ہم احتجاج اس لئے کر رہے ہیں کہ ثابت ہو چکا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے آف شور کمپنیوں کے ذریعے اربوں روپے کمائے لیکن ہمارے ادارے وزیراعظم کو اس لئے نہیں پکڑتے کیونکہ یہاں طاقتور کے لئے الگ اور غریب کے لئے الگ قانون ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں صرف شریف خاندان کی فیکٹریوں میں ڈویلپمنٹ ہو رہی ہے، لاہور ہائی کورٹ کے حکم امتناعی کے باوجود جنوبی پنجاب میں 5 شوگر ملز قائم کی جا رہی ہیں، ہم جو بات کافی عرصے سے کہتے آ رہے تھے کہ اس ملک میں جمہوریت نہیں بادشاہت قائم ہے اور اب چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی ہمارے بیان کی توثیق کر دی ہے۔عمران خان نے اسلام آباد کے لوگوں کے لئے خاص پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو بچانے کے لئے چھوٹی قربانی دینی پڑے گی جو آپ کو بڑے عذاب سے بچائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان حکمرانوں نے ہر جگہ اپنے پنجے گاڑھ رکھے ہیں، یہ کسی صورت اپنا احتساب نہیں ہونے دیں گے، یہ ایک فیصلہ کن وقت ہے جو اس ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا کہ ہمیں ترقی کی طرف جانا ہے یا تباہی کی طرف، تاریخ آپ کو قربانی کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے گی۔

حصہ