یہ دن یونیورسٹی میں گزرنے والے عام دنوں سے کچھ مختلف تھا، معمول کے مطابق کلاسز سے فارغ ہو کر اس اوپن ڈائلاگ کا وقت آیا کہ جس کا مجھے بے صبری سے انتظار تھا۔ اسکول سے لے کر کالج اور یونیورسٹی تک میں خود متعدد مرتبہ جنسی ہراسانی کا شکار رہ چکی تھی۔ جنسی ہراسانی کی بد سے بد ترین قسم سے میری واقفیت پرانی تھی۔ مگر یہ پہلی دفعہ تھا کہ جب کوئی اس شجر ممنوعہ مسئلے کے اوپر بات کرنے کی جرات کر رہا تھا۔
طلبہ تنظیم نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کی جانب سے بلائی گئی اس نشست کا آغاز ہوا تو جنسی ہراسانی کے قصوں کی ایک نا تمام ہونے والی قطار سی بندھ گئی۔ کسی کی پیٹھ کو بیٹی کہہ کر مخاطب کرنے والے استاد نے سہلایا تھا تو کسی کو یونیورسٹی کے چوکیدار نے کندھوں سے چادر ہٹانے کا حکم سنایا تھا، کسی کو کمپیوٹر لیب کے باہر کھڑے ہوئے لڑکے نے غلیظ اشارے کیے تھے، تو کسی کو لائبریری خالی پا کر کلرک نے دبوچ لیا تھا۔ کوئی استاد کی بہیمانہ خواہشات سے پریشان تھی تو کوئی سایے کی طرح اس کا پیچھا کرنے والے شخص سے خوفزدہ، کوئی لائبریری جانے سے یا اس میں اکیلے بیٹھنے سے کتراتی تھی تو کوئی ہر لمحہ اس خدشے سے دو چار رہتی تھی کے کہیں کوئی اسے اس کی مرضی کے بر خلاف کسی جگہ چھو نہ لے۔ اپنے مسائل ایک دوسرے کو بتاتے ان طلبہ میں یکساں خوف و ہراس موجود تھا۔
طلبہ میں موجود یہ خوف و ہراس پاکستانی یعنی پدر شاہی سماج کی بھرپور عکاسی کرتا ہے کہ جہاں مرد نے عورت کو نہ صرف بازار دیا بلکہ کارو کاری، جنسی ہراسانی، جنسی و روحانی تشدد، تیزاب حملے، ونی، کم عمری میں شادیاں یہاں تک کے عزت و انا کی تسکین کے لئے اس سے زندگی کا حق چھیننے کا اختیار بھی حاصل کر لیا۔ چاہے گھر کی چار دیواری ہو، کوئی بازار، تعلیمی ادارہ، آفس یا سڑک، مرد نے ہر جگہ سے عورت کا نام و نشان مٹانا چاہا اور آج بھی اس معمور پہ گامزن ہے۔
اس معاشرے میں عورت کی بغاوت کو خطرہ سمجھا جاتا ہے اور اس کی بے بسی کا استحصال کیا جاتا ہے۔ اگر خدا نخواستہ کوئی بغاوت کرے تو ‘ہلکے پھلکے’ تشدد کا سہارا لے کر اس کی آواز کو دبانے کی ہر کوشش کی جاتی ہے اور چپ رہے تو بھی مرد کے تحکم اور عیاشی کا شکار ہو کر ‘ہلکے پھلکے’ تشدد کے ماتحت رہتی ہے۔ ایسے میں جنسی ہراسانی کے بیشتر واقعیات کا منظر عام پر آنا اور دب جانا کوئی حیران کن عمل نہیں۔
سر عام ایسے نا معقول واقعات کو بڑھاوا دینا اور عام عوام میں ان خیالات کی تقویت کا موجود ہونا اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ قانون اور قانون پر عملدر آمد دیگر تمام معاملات کی طرح اس معاملے میں بھی نا پید ہے۔ ایسے میں تعلیمی اداروں کے اندر طاقت کی غیر مساوی تقسیم طلبہ کو مسلسل خطرے سے دو چار رکھتی ہے۔
26000 طلبہ پر مشتمل جامعہ کراچی میں تیزی سے پروان چڑھتا جنسی ہراسانی کا مسئلہ کوڑیوں کے مول اہمیت کا حامل ہے۔ غلطی سے بھی اس موضوع کے چھڑ جانے پر جامعہ انتظامیہ، اساتذہ، جنسی ہراسانی کا شکار ہوتے طلبہ یہاں تک کے جامعہ کے دار و دیوار ، پیڑ پودے و پتھر بھی یوں خاموش نظر آتے ہیں کہ مانو سانپ سونگھ گیا ہو۔
ایسی صورت حال میں ایسے واقعات کا منظر عام پر آنا ایک غیر معمولی بات ہے۔ حالیہ سال جامعہ میں اب تک جنسی ہراسانی کے دو واقعات منظر عام پر آ چکے ہیں۔ یہ واقعات ان چند واقعات میں سے ہیں جو یونیورسٹی انتظامیہ کے دبانے سے پہلے ہی اس جامعہ کی حدود سے باہر نکل گئے۔ ان میں سے ایک واقعہ پاکستان اسٹڈی سینٹر میں پیش آیا جس میں 85 سالہ مشہور و معروف ‘ادیب’ پروفیسر سحر انصاری پر الزام لگا۔ انصاری صاحب پر الزام لگا ہے کہ انہوں نے پاکستان اسٹڈی سینٹر کی اسسٹنٹ پروفیسر نوین غلام حیدر کو مبینہ طور پر ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ سحر انصاری بڑھاپے اور ریٹائرڈ ہونے کے باوجود یونیورسٹی میں پڑھا رہے ہیں۔ انصاری صاحب کو اس الزام سے یہ کہہ کر با عزت بری کر دیا گیا کہ یہ ان کو بدنام کرنے کی سازش ہے، اور یہ کہ ان کو بدنام کرنا گویا اردو ادب اور پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔ عمر کے اس حصّے میں وہ ایسی حرکت کر ہی نہیں سکتے، ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ ہوا ہو لیکن ثبوت نہیں ملے وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ شکایت کرنے والی کی عزت کو سر عام مجروح کرنے میں پاکستان سٹڈی سینٹر کے چیئر پرسن، یونیورسٹی انتظامیہ اور وقتی طور پہ تشکیل دی گئی جنسی ہراسانی کمیٹی نے کوئی کسر باقی نہ رکھی۔ یوں محسوس ہوا کہ جنسی ہراسانی کے ملزم انصاری صاحب نے نہیں بلکہ شکایت کرنے والی خود ملزم ہے۔ ایسے انصاف اور انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے بعد یہ کیس اب سرکار کے قانون کے مطابق صوبائی محتسب کے پاس ہے۔ رہ گئی بات ملزم انصاری کی پیرانہ سالی کی تو یہ بات زبان زد عام ہے کہ انصاری صاحب پر عہد جوانی سے جنس ہراسانی کے لگتے رہے ہیں۔
سوچنے کی بات ہے کہ جہاں اساتذہ جنسی ہراسانی سے محفوظ نہ ہوں اور فراہمیِ انصاف کے لئے خارجی ذرائع اپنانے پر مجبور ہوں وہاں نہتے طلبہ جن کے لئے جنسی ہراسانی پر کوئی ٹھوس قانون تک موجود نہیں وہ کس حد تک محفوظ ہیں؟ ہائر ایجوکیشن کمیشن جنسی ہراسانی پالیسی کی موجودگی کے باوجود طلبہ کو تحفظ فراہم کرنے میں اس پالیسی کی ناکامی طلبہ کے لئے اس زمرے میں علیحدہ اور واضح قانون بنانے کی ضرورت کو عیاں کرتی ہے۔
جنسی ہراسانی کیا ہے؟ اگر کسی کے ساتھ ایسا واقعہ ہو تو کیا اقدام اٹھانے چاہئے؟ ان سب اہم ترین سوالات کے جوابات سے طلبہ لا علم ہیں۔ ایسے میں طلبہ تنظیم نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کا کام قابل ستائش ہے، جو کہ نہ صرف جامعہ میں پیش آنے والے جنسی ہراسانی کے واقعات میں صاف شفاف و غیر جانبدارانہ چھان بین کا مطلبہ کر رہی ہے بلکہ طلبہ کے لئے جنسی ہراسانی پہ قانون سازی کے لئے بھی کوشاں ہے۔ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن جنسی ہراسانی پہ سٹدی سرکل، سیمینار آرگنائز کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی دیگر جامعات کے طلبہ کو اس مسئلے پہ اکٹھا کر رہی ہے۔
یہاں ضرورت اس بات کو سمجھنے کی ہے کہ ایسے سنگین مسائل پر خاموشی ان کا حل نکالنے کے بجائے انہیں مزید بڑھاوا دیتی ہے۔ ان سنگین مسائل پر طلبہ کی خاموشی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کے جامعات میں طلبہ یونین سازی جیسے اہم عمل پر پابندی طلبہ کو ان کے مسائل کی آگاہی اور ان کے حل سے دور کر رہی ہے۔ طلبہ تنظیموں پر پابندی، انتظامیہ کے ہاتھوں طلبہ کے استحصال کو فروغ دے رہی ہے۔ اس پس منظر میں طلب تنظیموں پر پابندی ختم کرنا ایسے تمام مسائل سے چھٹکارے کا بہترین حل ہے۔

حصہ