روزہ گرمی اور کمانڈوزْ ْ۔۔
تحریر ۔ عمران حفیظ
موسم گرما میں جب سورج آگ برسا رہا ہواُس وقت ہر جاندار ٹھنڈک کی طلب لیے ٹھنڈی ،ہوادار ،سایہ دار جگہ اور پانی کی تلاش میں سرگرمِ عمل ہوتا ہے۔جبکہ دوسری طرف قوم کے ماتھے کا جھومر،پاکستان آرمی کا دل ،شاہین کی نگاہ،شیر کا سینہ،چیتے کی سی پھرتی رکھنے والے ایس ایس جی کمانڈوز کئی روز تک تپتے ہوئے صحراوٗں ،آگ اُگلتی چٹانوں،چند منٹ سورج کا محلہ دار رہ کر دفضاء سے فری فال ہونا،زمیں پہ لیٹ کر کروٹ کروٹ قوم کی حفاظت اسلام کے قلعہ کی عظمت اور سر بلندی کے لیے چوکس ،آمادہ اور تیار ہوتے ہیں۔
یہ بھی تو آخر کسی کے لختِ جگر ہیں یہ بھی آخر انسان ،مسلمان اور پاکستانی ہیں۔کیا وہ دل دماغ نہیں رکھتے ،کیا انہیں بھوک پیاس اور تھکن کا احساس نہیں ہوتا؟
ہم خداسے شکوہ کرتے ہیں صبر کا دامن بھی کبھی کبھار کھو دیتے ہیں۔ہمیں قرآن ،احادیث سے شکوہ نہ کرنے نہ امید نہ ہونے اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنے کا درس ملتا ہے۔مگر پھر بھی ہم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس گرمی کے موسم میں رحمتوں ،مغفرتوں اور جہنم کی آگ سے چھٹکارے کا مہینہ رمضان المبارک اپنی برکتوں کا نزول لیے ،رحمتوں کی بارش برسائے اور ماندِ بہار نیکیوں کی مہک لیے وارد ہوا ہے۔
پہلے وقتوں میں ایمان کا گراف بلند تھا ۔وہ لوگ روزہ رکھ کر سارا سارا دن کھیتی باڑی کرتے ،محنت مزدوری کرتے ،
او ر احکامِ شریعت کے بھی پابند ہوتے تھے۔مگر آج ہم روزہ رکھ کر بھی روزہ کے لوازمات کو مدِنظر نہیں رکھتے،آنکھ کا روزہ ،کان کا روزہ وغیرہ
اب تو اکثر اس کا احترام بھی ختم ہوتا نظر آتا ہے ،اگر پہلے کوئی کسی عذر کی وجہ سے روزہ نہ رکھتا تو وہ پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے چھپ کر کھاتا پیتا،مگر آج تو گلی محلوں میں بڑی عمر کے لوگ چھوٹے بچوں کی طرح کچھ نہ کچھ کھا رہے ہوتے ہیں۔کھانے کی جگہ پر ہوٹلوں میں لگے پردے شیطان لے اُڑا ہے ۔۔ غربت اور تنگ دستی اِس پر بھی سوار ہو چکی ہے ۔شاید اُس نے گندے جسم کو چھپانے کے لیے اچھا لباس بنانا ہو۔
ہمارے ملک کے گوریلا کئی روز تک اسلام اور پاکستان کی سر بلندی کے لیے عام دنوں میں بھی بھوکے پیاسے رہ سکتے ہیں تو کیا ہم ماہِ مقدس میں صبح سے شام تک ایسا نہیں کر سکتے؟
اور یہ کہ ہر مسلمان کو اپنی استطاعت کے مطابق گرمی کا احساس کم کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔وہ اے سی چلائے یا پنکھایا غربت والے گھر میں سرکاری ٹوٹی کا معتدل پانی اپنے جسم پر ڈالنے کا اختیار رکھتاہے۔
ہم تمام دنوں میں کئی کلومیٹر سیر وتفریح اور ورزش کے واسطے چلتے پھرتے ہیں مگر تراویح میں کھڑا ہونا پہاڑ کا سا بوجھ محسوس کرتے ہیں ۔اگرہمیں گرمی کا احساس ختم کرکے اپنے دل و دماغ کو مات دینے ہے تو اس کمانڈوز کی کہانی اس کا رہن سہن ،اس کی مشکلات کو ذہن میں دہرابا ہوگاپھر دیکھتے ہیں کون تراویح میں تھکاوٹ محسوس کرتا ہے ۔گرمی میں کمانڈوز کا سو کلومیٹر بھاگنا اور ہمارا ایک گھنٹہ پنکھا یا اے سی کے
نیچے تراویح پڑھنا ،کمانڈوز کا ہفتہ ہفتہ بھوکا اور پیاسہ رہنا اورہماری سحری سے افطاری تک بھوک پیاس کیا ہم یہ نہیں کر سکتے؟
ہمیں اپنے اعصا ب کو مضبوط بنانا ہے۔شیطانی وسوسہ ختم کرناہے۔ہماری سوچ میں میدانِ کربلا،غزوہِ خندق ،غزوہِ بدر،جہاں خداکے پیاروں نے بھوک پیاس برداشت کی کیا ہم صبح سے شام تک یہ کام نہیں کر سکتے؟کیا ہم روزہ نہیں رکھ سکتے ؟کیا ہم دوسروں کو روزہ رکھنے کی تلقین نہیں کرسکتے؟کیا ہم ماہِ رمضان میں زیادہ سے زیادہ اسلامی اصولوں پر چلنے کی کوشش نہیں کر سکتے ؟ جو اب آپ کا ضمیر دے گا۔

حصہ