پاک چائنہ راہداری منصوبہ ۔۔۔ انجرہ میانوالی سیکشن
ان دنوں پاک چائنہ راہداری منصوبے کے مجوزہ روٹ کو حتمی شکل دی جارہی ہے تو دوسری طر ف میانوالی کی سیاسی قیادت اس منصوبے سے مکمل طور پر لا تعلقی کا مظاہرہ کرتے میانوالی کے عوام اور ضلع میانوالی کے بنیادی مسائل سے بے اعتنائی کے جرم کی مرتکب ہو رہی ہے ۔ ضلع میانوالی کی مقامی سیاسی اور پارلیمانی قیادت کی جانب سے اس سلسلہ میں واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کرنے کی معمولی سی جھلک بھی کہیں نظر نہیں آئی ۔ جبکہ دوسری جانب ملک کے بڑے صنعتی گروپس علاقے میں بھر پور دلچسپی لے رہے ہیں ۔پاک چائنہ راہداری منصوبے پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جنڈ اور میانوالی کے علاقوں پر بڑے سرمایہ دار اپنے پنجے گاڑنے اور علاقے کو اپنے شکنجہ میں کسنے کی منصوبہ بندی کر چُکے ہیں ۔ تحصیل جنڈ میں ایک بڑے صنعتی گروپ نے ’’کھڑپہ ‘‘ اور ’’ انجرا ناڑی ‘‘ کے مقام پر 27000کنال اراضی خرید لی ہے ۔ اس علاقے میں دیہہ شاملات کی لاکھوں کنال اراضی بھی پڑی ہے ۔ یہ صنعتی گروپ 27 ہزار کنال اراضی کے ساتھ ساتھ 9 ہزار کنال دیہہ شاملات کی اراضی کا حقدار بھی ٹھہر چُکا ہے ۔ ’’انجرا ناڑی ‘‘ اور ’’ کھڑپہ ‘‘ کے مقام پر جس گروپ نے صنعتی زون کے لیئے اراضی خریدی ہے اُس کا سلسلہ مبینہ ذرائع میاں حمزہ شہباز سے جوڑا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔کہا جا رہا کہ کوہاٹ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص فرنٹ مین کا کردار ادا کر رہا ہے ۔
پاک چائنہ راہداری منصوبے کے میانوالی کے علاقے داخل ہونے کے ارد گرد کے علاقے بھی سرمایہ داروں کی نظر میں ہیں ۔ اس علاقے میں سب سے زیادہ اراضی کے مالک کالاباغ کے نواب ہیں ۔ یہاں پر سابق گورنر مغربی پاکستان ملک امیر محمد خان نواب آف کالاباغ کی ذاتی شکار گاہ ’’ جابہ ‘‘ موجود ہے جس کا رقبہ8 لاکھ پچاس ہزار کنال بتایا جا تا ہے ۔ اس رقبے سے متصل کئی ہزار کنال اراضی ہے جو ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں زرعی اصلاحات کا شکار ہو گئی تھی بعد میں وہ اراضی نوابزادگان آف کالاباغ نے واپس لے لی تھی ۔ مبینہ ذرائع بتا رہے ہیں اُس اراضی کی خریدو فروخت کا سلسلہ جاری ہے ۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس اراضی میں سے پچاس ہزار کنال اراضی فروخت ہو چکی ہے جسے مختلف سرمایہ دار گروپوں نے خریدا ہے ۔ ایک اطلاعات کے مطابق میانوالی کی دس ہزار کنال اراضی ٹویٹا موٹرز گروپ نے بھی خریدی ہے ۔ ایک اور بڑے صنعتی گروپ کے کنسلٹنٹ محمد جہانگیر غوری نے بھی اس علاقے کا دور ہ کیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ وہ اپنے گروپ کی جانب سے اس علاقے میں منی سٹیل مل کے قیام کا جائزہ لینے آئے تھے ۔اس علاقے میں زبردست سرگرمیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں لیکن ضلع میانوالی کے مقامی سیاستدان ان معاملات سے کوسوں دور نظر آتے ہیں ۔ ان میں سے تو بعض ایسے بھی ہیں جو پاک چائنہ راہداری منصوبے سے ہی لا علم ہیں اور انہوں سے اس منصوبے سے آگاہی کا بوجھ اُٹھانا بھی مناسب نہیں سمجھا ۔۔۔ پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی قیادت بھی اس سلسلہ میں پارلیمان کے پلیٹ فارم پر سرگرم کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی ہدایت پر امجد علی خان ایم این اے نے قومی اسمبلی کے پلیٹ فارم پر میانوالی کے لیئے اقتصادی زون کا مطالبہ کیا تھا لیکن اس کے بعد اس سلسلہ میں کوئی سر گرمی دیکھنے میں نہیں آئی ۔ تجزیہ نگاروں کے بقول ضلع میانوالی میں پاک چائنہ راہداری منصوبے کے روٹ کے ارد گرد ان دنوں جس قسم کی سرگرمیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں ان کا فائدہ صرف بڑے سرمایہ داروں کو ہوگا۔ علاقے کے لوگوں کو براہ راست فائدہ صرف اُسی وقت پہنچ سکتا ہے جب یہاں اقتصادی زون قائم کیا جائے بتایا جا رہا ہے کہ ان علاقوں میں اکنامکس زون قائم ہوں گے وہاں سے 300 نوجوانوں کو تربیت کے لیئے چائنہ بھیجا جائے گا ۔ اس کے علاوہ بھی مقامی لوگوں کو ایسی مراعات ملیں گی جن سے ان کی معاشی حالت بہتر ہو سکتی ہے ۔ ریڈیو پاکستان کے ذرائع کے مطابق اب تک پانچ نئے انٹر چینجز کی منظوری دی جا چُکی ہے جس میں یارک( ڈیرہ اسماعیل خان ) داؤد خیل ( میانوالی ) ۔ کمر مثانی ( میانوالی ) پنڈی گھیپ اور حلکہ شامل ہیں ۔لیکن ضلع میانوالی کے حوالے حتمی صورتحال کسی کسی نے بھی واضح کرنے کی کوشش نہیں کی ہے ۔
ضلع میانوالی میں ارضی کے انتقال کا سلسلہ جاری ہے ۔میانوالی میں ڈسٹرکٹ کلکٹر نے زمین کی نشاندہی کرتے ہوئے تحصیل میانوالی کی ایک لاکھ تیرہ ہزارتین سو نوے کنال اراضی کا انتقال کر دیا ہے جس میں موضع مسان کا 45 ہزار 565کنال10 مرلے ، موضع داؤد خیل پکہ کا 14 ہزار 129 کنال ،10 مرلے ، داؤد خیل کچہ کا 13 ہزار 433 کنال 5 مر لے ، موضع پیر پہائی کا 8 ہزار 981 کنال ایک مرلہ ، موضع نکی کا 7ہزار 809 کنال 19 مرلے ، موضع پائی خیل کچہ کا 7 ہزار 415 کنال 6 مرلے ، موضع ڈھیر اُمید علی شاہ کا 6 ہزار 729 کنال 16 مر لے ، موضع بنی افغان کا 5 ہزار 208 کنال ،19 مرلے اور موضع ٹھٹھی شریف کا 4 ہزار 17 کنال 15 مرلے اراضی کا انتقال ہو چُکا ہے ۔
اسکندر آباد کے قریبی علاقے سوڑا کے لوگوں نے اس سلسلہ میں احتجاج بھی کیا تھا کہ سیمنٹ فیکٹری کی جپسم کی لیز بچانے کے لیئے ان کے گاؤں اور رہائشی مکانات کو راہداری منصوبے کی بھینٹ چڑھایا جا رہاہے ۔ لیکن حکومت یا میانوالی کے سیاستدانوں میں سے کسی نے بھی ’’سوڑا ‘‘ شہر کے مکینوں سے ہمدردی کا اظہار نہیں کیا ۔ اس علاقے کے لوگوں میں بہت زیادہ مایوسی پائی جاتی ہے ان کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے ان کے آباؤ اجداد سے اسکند ر آباد کے انڈسٹریل زون کے نام پر قیمتی اراضی ہتھیا لی گئی تھی بعد ازاں اسکندر آباد کے انڈسٹریل زون کی فیکٹریاں پرائیویٹ سرمایہ کاروں کو اونے پونے داموں بیچ کر نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا بلکہ مقامی لوگوں سے بھی وعدہ خلافی کی گئی ۔
ضلع میانوالی کے لوگوں کا شکوہ بجا ہے یہاں کے لوگوں نے قومی منصوبوں کے لیئے بیش بہا قربانیاں دی ہیں مگر انہیں اس کے بدلے ابتلاو آزمائش کے سوا کچھ نہیں ملا ۔ چشمہ بیراج ، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ، جناح بیراج ،پاک فضائیہ کے ائیر بیس سمیت ہر قومی منصوبے کے لیئے میانوالی کے لوگوں کی قربانیاں بے مثال اور لائقِ تحسین ہیں ۔ پاک چائنہ راہداری منصوبے کے لیئے بھی میانوالی کے محب وطن اور غیور عوام نے اپنی اراضی بخوشی قربان کر دی ہے لیکن اپنی قیادت سے اس کے شکوے بجا ہیں اور یہاں کی سیاسی قیادت کو اپنی سرگرمیاں فاتحہ خوانی سے آگے بڑھانی چاہئیں کہ اب نیا زمانہ ہے ۔

حصہ