یکم مئی۔ عالمی یومِ محنت
_____________ تحریر :۔ڈاکٹر لبنٰی آصف
بقول ڈاکٹر آصف مغل
’’ہے جس کا لہو کارگاہِ وقت میں روشن
مزدور کے سینے میں مشینوں کی ہے دھڑکن
کر دیتا ہے قربان ہر اک کام پہ تن من
نہ تاج نہ خلعت ہے نہ تحفہ ہے نہ انعام
اس دیس کے مزدور کی عظمت کو سلام
اس دیس کے مزدور کی عظمت کو سلام
قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’انسان کے لئے کچھ نہیں‘ سوائے اس کے جس کے لئے اس نے کوشش کی‘‘۔ گویا زندگی جہدِ مسلسل ‘پیکارِ عمل اور حرکت وسعی کا نام ہے۔ بقول علامہ اقبال
سمجھتا ہے تو راز ہے زندگی
فقط ذوقِ پرواز ہے زندگی
جس زندگی میں ذوقِ پرواز نہیں ہے اسے موت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اس لحاظ سے صحیح زندگی بندہء مزدور ہی جیتا ہے۔ہمارے پیارے نبیﷺ نے فرمایا’’محنت کار اللہ کا بندہ ہے‘‘۔کیا شان ہے بندہ ء مزدور کی کہ آپﷺ نے مزدور کے ہاتھوں کو بوسہ دیا جس کے ہاتھوں پر پتھر کوٹنے کے باعث سیاہ نشان پڑ گئے تھے۔آپﷺ نے خود مسجدِ نبوی کی تعمیر میں حصہ لیاغزوہء خندق کے موقع پر پتھر توڑے اور خندق کھودی اور محنت و مشقت کا عملی درس دیا۔آج کے مادی اور ایٹمی بلکہ نیوکلیائی دور میں جہاں سیم وزر کو معیار شرف ٹھہرایا جا رہا ہے اور مزدور کو قابلِ تکریم مقام دینے کی بجائے حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
یومِ مئی منانے کی اصل روح یہ ہے کہ مزدور کو اس کا جائز مقام دیا جائے۔ یہ مزدور ہے جس کے لہو سے تاریخ کا چہرہ نکھرتا ہے، تہذیب کی خوشبو چار سو بلھرتی ہے۔معاشرت میں حسن و جمال پیدا ہوتا ہے اور ملکی معیشت کی بنیادیں مستحکم ہوتی ہیں اور قوم ترقی کی راہوں پر گامزن ہوتی ہے۔
اگر بندہ ء مزدور کا وجود نہ ہوتا تو شاید یہ دنیا اس قدر حسین نہ ہوتی ۔پھر نہ تو بلندوبالا عمارات ہوتیں نہ طویل سڑکیں ہوتیں نہ خوبصورت تفریح گاہیں ہوتیں نہ دلکش پارک ہوتے اور نہ چشمِ انسانی کو مسحور کرنے والا تاج محل ہوتا۔
ہے تاج محل شاہ جہاں کی نہیں جاگیر
مزدور کی محنت کی محبت کی ہے تصویر
تاریخ کے ماتھے پہ ہے مزدور کی تحریر
بابل کے ہوں کھنڈرات کہ ہوں مصر کے اہرام
اس دیس کے مزدور کی عظمت کو سلام
اس دیس کے مزدور کی عظمت کو سلام
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مزدور طمانیت اور آسودگی کی لازوال دولت سے مالامال ہوتا ہے۔یہ صحراؤں میں گل کھلا دینے پر بھی قادر ہے یہ پہاڑوں میں نہر بہا سکتا ہے اور ناممکنات کو ممکنات میں بدل سکتا ہے۔مزدور کی محنت ہی اجتمائی اور انفرادی ترقی کا پیش خیمہ ہے۔یہ عزت،عظمت،کامرانی،خود اعتمادی، فکرو بصیرت اور عزم و استقلال کی آئینہ دار ہے۔ اسی کے باعث سائنسی ایجادات ،شاندار عمارات، کارخانوں کی مصنوعات اور کسانوں کے لہلہاتے کھیت ہیں۔
گلشن بھی سلامت ہے شجر زندہ رہے گا
یہ کارِ ہنر دستِ ہنر زندہ رہے گا
مزدور کو ہم سب کی محبت کا ہے سلام
اس دیس کے مزدور کی عظمت کو سلام
اس دیس کے مزدور کی عظمت کو سلام

حصہ