کالاباغ(انوار حسین حقی) :افغان مہاجرین کیمپ کوٹ چاندنہ میں کیمپ مشران نے اپنی بچیوں اور بچوں کو احتجاجاسکول جانے سے روک دیا۔ ذرائع کے مطابق افغان کیمپ میں پانی کے بلوں میں بے پناہ اضافہ کے نتیجے میں افغان کیمپ میں رہنے والے قبائلی سرداروں نے ایک جرگہ میں فیصلہ کیا کہ جب تک پانی کے بلوں میں اضافہ واپس نہیں لیا جاتا ہم اپنے بچوں اور بچیوں کو سکول نہیں بھیجیں گے پانی کے بلوں میں یکدم تین گنا اضافہ کر دینا غریب مہاجرین کے ساتھ ظلم ہے ۔جرگے کے فیصلے کے مطابق آج سکولوں میں کوئی بھی طالبعلم سکول نہیں گیا ۔
کیمپ میں مقیم ولی خیل ، سلمان خیل اور بلوچ قبائلی سرداروں کا کیمپ کی مسجد میں جرگہ منعقد ہو ا۔ جس میں کہا گیا کہ پانی کے بلوں میں تین
1982 ء میں قائم ہونے والا افغان مہاجر کیمپ کوٹ چاندنہ دنیا میں سب سے بڑا مہاجر کیمپ بھی رہ چکا ہے۔ اس وقت کیمپ میں رجسٹرڈ مہاجرین کی تعداد 18000 ہے۔کیمپ سٹیٹ اینڈ فرنٹیر ریجن(SAFRAN ) کی وفاقی وزارت کے تحت قائم ہے۔
اس کیمپ میں مقیم ساٹھ فیصد افغان مہاجرین کا تعلق افغانستان کے صوبہ ’’ بغلان‘‘، قندوز، جبکہ 40 فی صد کا تعلق کابل، جلال آباد،پکتیہ، پکتیکا، اور صوبہ لوگر سے ہے۔
پناہ گزینوں کے عالمی ادارے یو۔این۔ایچ ۔سی۔آر کے تحت 2015میں انٹر نیشنل نینسن ریفیوجیز ایوارڈ جیتنے والی افغان کیمپ کوٹ چاندنہ کی خاتون افغان ٹیچر عاقلہ آصفی نے کہا ہے کہ تمام افغان مہاجرین اپنے بچوں اور بچیوں کو سکول بھیجیں بچوں کو سکول نہ بھیجنے پر ان کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔تعلیم کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان کیمپ میں اس معملے کو فی الفور حل کیا جائے تا کہ بچوں کی تعلیم متاثر نہ ہو سکے۔عاقلہ آصفی کو بین الاقوامی ایوارڈ اس کیمپ کے نا مساعد حالات میں تعلیم کے فروغ کے لیئے اُس کی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا تھا اور ان سے ملاقات کے لیئے چین کی صفِ اول کی اداکارہ نے اقوامِ متحدہ کی سفیر برائے خیر سگالی کی حیثیت سے آصفہ عاقلی سے ملاقات کے لئے میانوالی کا دورہ بھی کیا تھا ۔

حصہ