کیا اس قوم کو کسی لیکس کے انکشافات کی ضرورت ہے؟؟
عنایت عادل
ابھی کچھ ہی عرصہ قبل، ذرائع ابلاغ وکی لیکس نامی ایک بریکنگ نیوز کا مرکز بنے رہے۔ جس میں دنیا کے کئی ممالک کی حکومتوں اور ان حکومتوں میں شامل سیاسی شخصیات کے ساتھ ساتھ ان ممالک کے مختلف ادروں کے درمیان ہونے والے رابطوں اور ان رابطوں کے محرکات و منصوبہ بندیوں کے ہوشرباانکشافات کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔دنیا بھر میں شور اٹھا تو کئی ممالک کے عوام سڑکوں پر نکل آئی اور پھر ہم نے دیکھا کہ مہذب ممالک کے کئی ایک طرم خان اپنی قوم کو وضاحتیں دیتے دکھائی دئیے۔وکی لیکس میں پاکستان کے حوالے سے بھی کئی ایک انکشافات سامنے آئے، لیکن ، ہمیشہ کی طرح یہ قوم، ملکی مفادات کے بجائے، سیاسی بنیادوں پر پوائنٹ سکورنگ کرتے اپنے سیاسی قائدین کا دفاع تو مخالف سیاسی جماعتوں کے خلاف ہرزہ رسائی کرتی نظر آئی۔۔ وکی لیکس میں پاکستان کے حوالے سے کیا کیا انکشافات سامنے آئے، ان پر ہماری سیاسی و انتظامی قیادت کا کیا موقف سامنے آیا اور اس پر پاکستانی عوام کا کیا رد عمل دیکھا گیا، اس پر گفتگو سانپ گزر جانے کے بعد محض لیکر پیٹنے کا عمل قرار دیا جا سکتا ہے البتہ ، وکی لیکس میں ہمارے مشاہیر پر لگائے جانے والے الزامات کا محض بیانات تک محدود دفاع اور وکی لیکس کے خلاف کسی بھی فورم پر کاروائی کا مطالبہ یا اقدام سامنے نہ آنا، خاموشی کو تقریباََ سچ سمجھنے کے لئے کافی سمجھا جا سکتا ہے۔2013میں سامنے آنیو الے وکی لیکس کے ٹھیک تین سال کے بعد اب پانامہ لیکس کے انکشافات کا دور دورہ ہے۔۔ہر خبرنامہ، ہر ٹاک شو، ہر اخبار کی جلی حروف پر مبنی خبریں، ہر دوسرا کالم یا مضمون اور یہاں تک کہ عالمی سطح پر شہر شہر ، گاؤں گاؤں کے ہر چوراہے پر میلی ململ دھلتی نظر آرہی ہے۔پانامہ لیکس کے نشانے پر آنے والے مختلف ممالک اور ان ممالک سے تعلق رکھنے والے ’’معززین‘‘ پر لگنے والے الزامات کا آوازہ جب عوامی سطح پر بلند ہوا تو مہذب قوموں نے ان الزامات کی تحقیقات کے فوری اقدامات کو مقدم جانا، بلکہ آئس لینڈ کے وزیر اعظم کو تو ان کے عوام نے انکشافات کے سامنے آنے کے چند ہی دن بعد گھر جانے پر مجبور کر دیا جبکہ تادم تحریر ہونے والی پیش رفت میں برطانوی وزیر اعظم اپنے اثاثہ جات عوام تک پہنچانے پر مجبور کر دئیے گئے تھے۔
پاکستان میں بھی کچھ ایسی صورتحال ہے کہ ہر جانب پانامہ لیکس ہی کا غوغا سنائی دے رہا ہے، لیکن دیگر ممالک کے برعکس، یہاں ان انکشافات کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ تک محدود کئے جانے کی کوشش زوروں پر دکھائی دے رہی ہے۔ حزب اختلاف ، اپنی مسلسل خواہشات کے عین مطابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو مسند سے اٹھا پھینکنے کی جستجو سے سرشار ہے تو خود حکمران جماعت اپنے قائد اور انکے خانوادے پر لگنے والے الزامات کو اپنی حریف جماعتوں پر کیچڑ اچھالنے کا نادر موقع بنا چکی ہے۔اور کچھ ایسی ہی صورتحال عوامی سطح پر بھی دیکھی جا سکتی ہے جو سوشل میڈیا سے لے کر چوک چوراہوں اور نجی محفلوں تک میں اپنے پسندیدہ راہنما ء پر لگنے والے الزامات کا دفاع اسی طرح مخالف جماعت کے راہنماؤں کے کردہ و نا کردہ گناہوں کا واویلا کرتے ہوئے کر رہی ہے کہ جس قسم کا دفاع خود مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سرکردہ راہنما ان دنوں کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔بلکہ دیکھا جائے تو گزشتہ دنوں وزیر اعظم کی جانب سے کیا جانے والا گیارہ منٹ کا قوم سے خطاب بھی اپنے اوپر لگنے والے الزام کے دفاع کے بجائے ، قوم تک اپنی مظلومیت کا پیغام دینے کا ایک نادر موقع قرار دیا جا سکتا ہے۔اس خطاب میں نواز شریف نے اپنی داستان سنائی کہ کس طرح ان پر معاشی ظلم کیا گیااور انکی اسٹیل ملز پر قبضہ کر لیاگیا تاہم وہ قوم کو یہ بتانا بھول گئے کہ اس دور میں صرف انہی کی فیکٹری یا کارخانے کو قومیایہ گیا تھا کہ اس کی زد میں دیگر کاروباری مراکز بھی آئے تھے؟انہوں نے خود قوم کو بتایا کہ ان دنوں میں انکا یا ان کے خاندان کے کسی فرد کا سیاست ست دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا تو پھر اس ساری کاروائی کو اپنی آج کی (شاید) حریف سیاسی جماعت کی انتقامی کاروائی کا الزام چہ معانی دارند؟۔انہوں نے فرمایا کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اتفاق فاؤنڈوی کے اسکریپ سے بھرے جہاز کو ایک سال تک مال اتارنے نہیں دیا جس سے پچاس کروڑ کا نقصان ہوا لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ پابندی کیوں لگی اورسکریپ کے مال میں شوگر ملوں کی مشینری کو سمگل کرنے کا الزام کس حد تک درست تھا؟۔ ۔ ۔ ڈکٹیٹر پرویزمشرف کے دور میں ہمیں ملک بدر کیا گیا البتہ وہ یہ بھی فرما دیتے تو بہتر ہوتا کہ مذکورہ ملک بدری دس سالہ ، دو طرفہ باہمی اتفاق سے تحریر کئے معاہدے کے تحت وقوع پذیر ہوئی تھی اور اگر وہ یہ بھی فرما دیتے تو قوم کو اپنے سیاسی قائدین کی بصیرت کا بھی ادراک کروایا جا سکتا تھا کہ وہ مذکورہ معاہدے کی مدت ختم ہونے سے کہیں پہلے اپنی ’’ملک بدری ‘‘ کا خاتمہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے کئے جانے والے اس معائدے کی صورت میں ہوا تھا کہ جسے یہ قوم این آر او کے نام سے جانتی ہے اور جس کے ذریعے سینکڑوں ہزاروں مقدمات کو سرد خانے میں ڈالتے ہوئے قوم کے ساتھ مذاق کیا گیا تھا، اور پھر اسی طرحی مصرعے پر غزل میثاق جمہوریت کی شکل میں اس باذوق قوم کو سنائی گئی تھی۔وزیر اعظم صاحب نے فرمایا کہ میرے بچے ملک میں کاروبار کریں تو کرنے نہیں دیتے ۔ باہر ملک کام کریں تو ان پر الزام لگائے جاتے ہیں۔ جبکہ انہوں نے جدہ کی اسٹیل مل فروخت کر کے لندن میں کاروبار شروع کیا۔پوچھا جا سکتا ہے کہ آپ تیسری مرتبہ وزیر اعظم، کاروباری لحاظ سے سے سب سے زیادہ موزوں صوبہ پنجاب میں آپ ہردور میں اقتدار کے حامل،سب سے بڑی جمہوری سیاسی جماعت کی دعویدار پاکستان پیپلز پارٹی سے آپ کا رشتہ میثاق جمہوریت کے تحت کئی نسلوں تک چلنے کی یقین دہانی کی صورت میں اٹل تو پھر آپ کے بچوں کو پاکستان میں کاروبار کرنے سے کون سے قوت مانع ہے؟۔۔ دوسرے، آپ کے بچوں پر کسی نے بیرون ملک کاروبار کرنے پر الزام بھلا کس نے لگایا کہ آپ کو لکھنے والے نے یہ فقرہ لکھ دیا؟ الزام تو اس کاروبار کے سلسلے میں حاصل ہونے والے سرمایہ پر ہے تو جواب اس کا دینا چاہئے تھا کہ یہ سرمایہ مجوزہ سرکاری و قانونی طریقہ سے بیرون ملک منتقل ہوا یا نہیں۔۔؟ اگر قانونی طریقہ تھا تو الزام اپنی موت آپ مر جاتا بصورت دیگر یہ قوم بس تالیاں بجانا اور یا پھر سوتے رہنا ہی پسند کرتی ہے۔جوڈیشل کمیشن کی غلط اصطلاح کے استعال کرتے ہوئے خود کو احتساب کے لئے پیش کرنے کا اعلان بھی سینے کو اچھا خاصہ چوڑا کرتے ہوئے کیا گیا لیکن اس اعلان کے دوران ہی قانون سے آگاہ لوگوں نے جان لیا کہ کیا گیا اعلان دراصل جوڈیشل کمیشن کا نہیں بلکہ ایک انکوائری کمیشن کا ہے جس کا مطلب ہے ، من مرضی کا کمیشن، من مرضی کی تحقیقات اور من مرضی کا فیصلہ حاصل کرتے ہوئے کلین چٹ ۔۔اگر راقم کا یہ خیال درست نہیں کہلایا جا سکتا تو ماضی قریب و بعید میں بنائے جانے انواع و اقسام کے کمیشن کا ریکارڈ ہی دیکھ لیا جائے۔ یا پھر چند ہی ماہ قبل، انتخابی عمل کی شفافیت کو جانچنے کی غرض سے بننے والے اس کمیشن کا فیصلہ ہی دیکھ لیا جائے کہ جس نے مریض کو نسل انسانی کو لاحق ہر بیماری کا شکار ہونے کے اعتراف ہونے کے باوجود، صحتمند قرار دے دیا۔
حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی مختلف جماعتوں اور شخصیات نے بھی اس تقریر پر اعتراض کیا اور کہا کہ پاکستان میں انکوائری کمیشن معاملہ دبانے کے لیے بنائے جاتے ہیں یہ کمیشن بھی ایسا ہی ہے۔ عدالتی کمیشن نامنظور ہے۔ہاں کسی بیرونی آڈٹ کمپنی سے فرانزک آڈٹ کرائی جائے تو ٹھیک ہے۔ امیر جماعت اسلامی اور سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ آف شور کمپنیوں میں عوام سے لوٹا گیا خزانہ لگایا گیا ہے۔عوام پر ٹیکسوں اور قرضوں کا بوجھ ڈالنے والے حکمرانوں کے بے رحمی سامنے آگئی ہے۔ دولت قانونی ہوتی تو چھپائی نہ جاتی۔ سرمایا باہر لے جانے والے حکمران کس منہ سے غیر ملکی سرمایاکاروں کو پاکستان آنے کی دعوت دیتے ہیں۔قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف خورشیداحمدشاہ نے پاناما لیکس کو انتہائی اہم قرار دیا اوربڑا اشیو قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر پارلیمنٹ میں اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں دس ا رکان نے تحریک التوا جمع کرائیں ہیں۔ پاناما لیکس انکشافات پر نواز شریف کو ٹف ٹائم دینے کے لیے پی پی اور پی ٹی آئی نے رابطے قائم کیے ہیں۔ عمران خان نے اپنے محبوب مشغلے کا موقع جانتے ہوئے24 اپریل کو ڈی چوک پر جلسہ کرنے کا اعلان بھی کر دیا تاہم وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ان کے اس شوق کو اب کی بار پورا کرنے سے معذرت کر ڈالی۔عمران خان نے وزیر اعظم بننے کے اپنے شوق اور مستقبل میں اسی عہدے کے یقین کو سینے سے لگاتے ہوئے اسکی ریہرسل کرنے کا بھی ایک موقع حاصل کرنے کی کوشش اس طرح کر ڈالی کہ انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن پر اسی طرح سے قوم سے خطاب کا مطالبہ کرڈالا کہ جو ہمارے ہاں صدور یا وزرائے اعظم ہی کیا کرتے ہیں۔لیکن ان کی بدقسمتی کہ ایچی سن کے زمانے کے ان کے ہم جماعت نے ان کی یہ معصومانہ خواہش بھی رد کر دی اور جس وقت یہ سطور لکھی جا رہی ہیں، عمران خان کی جانب سے نجی چینلوں کے ذریعے ’’میرے عزیز ہموطنو‘‘ کا فقرہ کہنے کا اعلان سامنے آ چکا ہے۔
عمران خان نے پانامہ لیکس کے حوالے سے اولاََ نیب سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اوراسکی نگرانی چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کے تحت دینے کا مطالبہ کیا تاہم آخری اطلاعات آنے تک ان کا مطالبہ شعیب سڈل کی زیر نگرانی تحقیقات کرونے کے مطالبے کی منزل پا چکا تھا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے۔عمران خان کی یہ دلیل البتہ توجہ طلب ہے کہ میاں نواز شریف کے سمدھی ،نون لیگ کے سرکردہ رہنما اوراس ملک کو میسر اکلوتے وزیر خزانہ(انکی یہ مسند صرف نون لوگ کی حکومت کی محتاج نہیں) اسحاق ڈار حلفیہ بیان کے ذریعے اعتراف کر چکے ہیں کہ شریف فیملی کی دولت منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک بھجوائی گئی تھی۔شریف فیملی کی آف شور کمپنیاں اسی دولت کا برگ و بار ہے۔پی ٹی آئی کے ہی مرکزی راہنما اسد عمر کا تبصرہ تھا کہ دنیا میں جہاں جہاں الزامات لگے وہاں تحقیقات شروع ہو چکی ہیں۔پیپلز پارٹی کے سینیٹر سعید غنی نے کہا ہے کہ نواز شریف کے اقتدار میں آنے سے پہلے اور اب موجودہ اثاثوں کی تحقیقات کی جائیں تو سب کچھ سامنے آجائے گا۔پیپلز پارٹی ہی کے قمر زمان کائرہ نے استفسار کیا کہ آف شور کمپنیاں کب اور کیسے بنیں۔پیسہ کہاں سے آیا۔ شریف خاندان کا1994-96میں انکم ٹیکس صفر تھا تو پھر یہ اثاثے کہاں سے آئے؟؟۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہاریٹائرڈ جج پر مشتمل کمیشن نرا دھوکہ اور ڈرامہ ہے۔شہباز شریف کی اہلیہ تمینہ درانی نے کہا کہ آف شور کمپنیاں غیر اخلاقی ہیں۔غرض، جس کو موقع ملا، وہ اپنے ہی انداز سے گرجا اور اپنے ہی طور سے برسا۔۔
قارئین کو یہاں یہ بتانا لازمی ہے کہ وکی لیکس توحکومتوں کے درمیان خفیہ اور غیر قانونی لیکس تھیں اب پاناما لیکس میں مالی خرابیوں کو عام کیا گیا ہے۔وکی لیکس عام کرنے والا ایک مدت سے ملکوں ملک پناہ لے لیے پریشان ہے۔ شروع میں لوگ اس پراعتماد نہیں کرتے تھے لیکن بعد میں و ہ سچ ثابت ہوئیں۔ اب پاناما لیکس پر بھی لو گ مذاق اڑ رہے ہیں ۔ پنجاب کے وزیر قانون پاناما لیکس کو شیطانی لیکس کہہ رہے ہیں۔ مختلف حکومتوں کے140 سیاسی شخصیات، جن میں صدر، وزیراعظم اورسرمایا دارں کے غلط کاموں کا انکشاف کیا گیا ہے۔ نواز شریف فیملی کے علاوہ پاکستان کے دو سو دوسرے لوگ بھی شامل ہیں۔ حکومت پاناما کی ایک فرم موزیک فانسیکا ہے۔دنیا میں یہ مشہور و معروف آف شور کمپنیاں کاروبار کے لیے بنائی جاتی ہیں۔آف شور کمپنیاں بناناجرم نہیں ان کا غلط استعمال جرم ہے ۔ آف شور کمپانیاں اگر ٹیکس چوری کرنے کے لیے بنائی جائیں تو یہ غلط ہے۔اب پانامہ لیکس سے کئے جانے والے انکشافات کی صحت کا سوال ہے تو سردست اس پر کچھ کہنا درست نہیں ہو گا البتہ پاناما حکومت کے صدر نے کہا ہے کہ پاناما کی فرم موزیک فانسیکا کی طرف سے اگر کوئی غلط بات ہوئی ہے تو پاناما حکومت ہر قسم کا تعاون کرنے کا اعلان کرتی ہے۔اسی طرح انکشافات سے لبریز ، کئی ایک ممالک میں گویا طوفان برپا کرتی یہ دستاویزات افشا کیسے ہوئیں تو اس سلسلے میں فرم موزیک فانسیکا نے کہا ہے کہ اس کی ایک کروڑ پندرہ لاکھ دستاویزات کا لیک ہونا ایک محدود ہیکنگ کا باعث ہوا۔فرم کا یہ موقف درست ہے یا کہ دروغ تاہم یہ کہنا بجا ہی ہو گا کہ پاناما پیپرز تاریخ کا سب سے بڑا انکشاف ہے۔دنیا بھر کے میڈیا نے اسے جس طرح اپنایا ہے اسے دیکھ کر یہی محسوس ہو رہا ہے کہ بہت سے دودھ کے دھلے اب عوام کے ہاتھوں دھلائی کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ، پاکستان کے حالیہ اور اس سے قبل دو مرتبہ منتخب ہونے والے وزیر اعظم اور مسلم لیگ نون کے بانی سربراہ میاں محمدنواز شریف خود یا انکے بھائی اور متعدد بار پاکستان کے 62فیصد حصہ پر بطور وزیر اعلیٰ حکمرانی کرتے شہباز شریف کے نام پر تو کوئی آف شور کمپنی نہیں ہے۔ لیکن میاں محمد نواز شریف کے صاحبزادوں حسین نواز اور حسن نواز اور ان کے رشتہ داروں کے نام آٹھ آف شور کمپنیاں ہیں۔ اسی مالی اڑن کھٹولے کے سفرکا مزہ لیتے پاکستانیوں کا ذکر ہو تو ہمیں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ سوئس بنکوں میں پاکستان سے لوٹے ہوئے دو سوارب ڈالر موجود ہیں، جی ہاں یہ وہ رقم ہے کہ جو گزشتہ عام انتخابات کے دوران ، سوائے پاکستان پیپلز پارٹی کے کہ جن کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پر سوئس بنکوں میں رقم چھپانے کا الزام ہے اور جس کے حوالے سے سوئس حکام کو خط لکھنے کے مطالبے پرسابقہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے داماد، دو مرتبہ وزیر اعظم رہنے والی بے نظیر مرحومہ کے شوہر نامداراور خود ملک کی صدارت پر براجمان رہنے والے آصف علی زرداری، مسلسل پانچ سال تک ’’صدارتی استثنیٰ‘‘ کے پیچھے چھپتے رہے تھے،سب ہی سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی انتخابی مہم کے دوران قوم کی اس لوٹی ہوئی رقم کو واپس لانے کے بلند بانگ دعوے کئے تھے، جن میں خود میاں محمد نواز شریف اور انکے بھائی میاں شہباز شریف کے جذباتی انداز میں کئے جانیوالے دعوے، عوامی جذبات کو بھڑکانے تک کا موجب بنتے دکھائی دیتے تھے۔ لیکن آج تین سال گزر جانے کے بعد میاں بردران قوم کی یہ رقم تو کیا واپس لاتے، خود انکے خاندان پر قوم کی رقم کو آف شور کمپنیوں میں لگاتے ہوئے مالی بدعنوانی کا الزام سامنے آ گیا ہے۔ساتھ ہی ساتھ، پاناما لیکس نے مرحومہ بے نظیربھٹو، جاویدپاشا، رحمن ملک اورچوہدری برادران کے رشتہ دار وں کو بھی اسی حوالے سے مالی بدعنوانیوں کا مرتکب قرار دے دیا ہے۔
اخباری رپورٹ کے مطابق نواز شریف جب پنجاب کے وزیر خز انہ بنے تو ان کی فیملی کا ایک انڈسٹریل یونٹ تھا۔ جب پہلی بار وزیر اعظم بنے تو ان کی فیکٹریوں کی تعداد9 س بڑھ کر28 تک پہنچ گئی۔عہدوں کا ناجائز فاہدہ اٹھاتے ہوئے سرکاری اور پرائیویٹ مالیاتی اداروں سے بھاری قرضے حاصل کیے۔1993میں شریف فیملی پر واجب الادا قرضوں کا حجم6146 ملین سے زائد تھا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 1970-71میں شریف فیملی کی جانب سے آمدنی 7623روپے، اثاثہ جات7194روپے ظاہر کئے گئے، جبکہ ٹیکس ’’صفر‘‘ ادا کیا گیا۔میاں محمد نواز شریف کی مذکورہ تقریر کے مطابق، 1979میں انہیں اتفاق فاؤنڈری کھنڈرات کی شکل میں ملی۔۔جبکہ سرکاری دستاویزات بتاتی ہیں کہ جنرل ضیا الحق نے جون 1979میں جب اتفاق فاؤنڈری واپس کی تو گروپ کے ذمہ 8کروڑ 34لاکھ روپے قرض تھا جو کہ ضیاء الحق نے معاف فرما دیا۔اسی تقریر میں میاں صاحب کا فرمان تھا کہ1989میں جوناتھن جہاز روکنے کی وجہ سے انہیں پچاس کروڑ کا نقصان ہوا۔ جبکہ ٹیکس گوشوارے 1989میں شریف فیملی کی کل ظاہر کردہ آمدنی 9لاکھ 38ہزار3سوگیارہ روپے جبکہ اثاثوں کی مالیت2لاکھ4ہزار9سو پندرہ روپے تھی۔سرکاری دستاویزات کے مطابق1992-93میں شریف فیملی کی آمدن43ہزار7سوسات روپے ، اثاثوں کی مالیت 3لاکھ11ہزار5سوتہترروپے جبکہ ٹیکس کی مد میں صرف 6ہزارایک سو ستر روپے ادا کئے گئے تھے۔اسی طرح193-94میں شریف فیملی نے کل آمدن 2لاکھ ،82ہزار5سو چار روپے ، اثاثوں کی مالیت 1لاکھ81ہزارایک سو اکانوے روپے ظاہر کی جبکہ ان کی جانب سے ادا کردہ ٹیکس10ہزار4سو روپے تھا۔
قارئیں کرام ! یہ ہیں وہ اعداد و شمار جو اخبارات کی زینت بھی بنتے چلے آ رہے ہیں اور سرکاری دستاویزات میں بھی محفوظ ہیں۔ملک کے وزیر اعظم میاں نواز شریف جو تقریر میں اپنی فیملی کے بہت بڑی صنعتی ایمپائر اور کروڑوں روپے ٹیکس کا بار بار ذکر کر رہے تھے اور جو اس ریکارڈ سے بالکل بھی میل نہیں کھاتا، کے سامنے آنے کے بعد کیا اس پر کوئی دلیل ، کوئی دفاع باقی بچ پاتی ہے کہ ایک طرف جہاں اربوں روپے کی مالیت پر مشتمل کاروبار کو اپنی خاندانی محنت اور ورثے میں ملنے والی کاروباری شان و شوکت قرار دیا جار ہا ہے وہیں سرکاری اعداد و شمار میں ان اربوں کھربوں روپوں کو چھپانے اور اپنے اس عمل کی بنیاد پر ٹیکس سے بچنے کا طریقہ اپنایا گیا ہے۔اب سوچنا یہ چاہئے کہ کیا مذکورہ بالا اعداد و شمار ظاہر کرتے ہوئے ’’خیانت‘‘ کا ارتکاب کیا گیا یا کہ اپنی تقریر میں بیان کر دہ اعداد و شمار ظاہر کرکے میاں صاحب خود کو ’’صادق‘‘ کے مرتبے پر فائز رہنے کے قابل نہ رکھ پائے؟۔
واضح رہے کہ یہ وہ وقت تھاکہ جب دستاویزات کے مطابق، شریف فیملی کی طرف سے ایون فیلڈ ہاؤس پارک لین، لندن میں دو آف شور کمپنیوں نیکسن اور نیکسول کے ذریعے چار لگژری فلیٹس خریدے گئے اور نواز شریف 1984-85 میں پنجاب کے وزیر خزانہ تھے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس وقت ان ایک کا انڈسٹریل یونٹ تھا، لیکن جب وہ1985 میں وزیر اعلی بنے تو ان کے انڈسٹریل ہونٹس کی تعدادایک سے بڑھ کر9یونٹ تک بڑھ گئی۔
جب 1990میں پہلی باروزیر اعظم بنے تو1991-93کے دوران ، ان یونٹس کی9 سے بڑھ کر28 تک پہنچ گئی۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وزیر خزانہ سے پہلی بار وزیر اعظم بننے تک پاکستان کے سرکاری اور پروئیویٹ مالیاتی اداروں سے اپنے عہدوں کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے19 انڈسٹریل یونٹس کے لیے 6146 ملین سے زائد کے قرضے حاصل کیے۔نواز شریف نے اپنی تقریر میں پونے چھ ارب کے واجب الدا قرضے چکانے کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی لیکن ذرا اس کا جواب بھی تو ملنا چاہئے کہ قرض ادائیگی کی مد میں نیشنل بنک کا خط تو2014 میں جاری کیا گیا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ 2013کے انتخابات سے قبل شریف فیملی انہی قرضہ جات کی مد میں ڈیفالٹر(نا دہندہ) تھی کہ جن قرضہ جات کی ادائیگی کا کریڈٹ میاں صاحب نے اپنی تقریر میں لینے کی کوشش کی۔اب یہاں سوال اس الیکشن کمیشن پر اٹھتا ہے کہ جس کو تمام سیاسی جماعتیں نہایت زعم اور رضامندی کے ساتھ لائی تھیں کہ اس نے اتنی بڑی رقم کے نادہندہ امیدواروں کو الیکشن لڑنے کی اجازت کیوں اور کیسے دی جبکہ امیدوارووں کی جانچ پڑتال کے دوران آر او ز نے ایک عام امیدوار کو بجلی اور ٹیلی فون کے چند ہزار کے بل تک کی عدم ادائیگی پر نا اہل قرار دینے کا نا صرف عندیہ دیا بلکہ کئی ایک کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کئے گئے۔ ۔
پاناما لیکس کے سامنے آنے والے انکشافات کے بعد اب اعداد و شمار کا یہ پنڈورا باکس ضرور کھلنا چاہئے اور نا صرف صاف شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں بلکہ قوم کے پیسے کو ہضم کرتے ہوئے خیانت اور عوام سے جھوٹ بول کر انہیں بے وقوف بنانے کے عمل کی بنیاد پر انکے صادق ہونے کے دعووں کو بھی انجام تک پہنچایا جانا چاہئے کہ الیکشن کمیشن نے خود ہی گزشتہ انتخابات کے دوران ایک عوامی نمائندے کے لئے صادق اور امین ہونے کے متعلق آئین کی شق 62-63کی شرط عائد کی تھی۔بات شریف فیملی کے اثاثہ جات کی ہو یا کہ آصف علی زرداری کے سوئس بینکوں میں موجود مبینہ ڈالرز کی، شوکت خانم کے چندے کی رقم کو آف شور کمپنیوں میں لگانے کا ذکر ہو یا کہ دیگر سیاسی زعماء سے لے کر پاناما لیکس میں مزکور دو سے زائد شرفاء کے بیرون ملک اثاثوں کی۔۔ صرف ایک نکتے سے سب کا جواب مل سکتا ہے اور وہ ہے ان تمام حوالہ جات کی مد میں بیرون ملک بھیجے جانے والے سرمایہ کے ریکارڈ کا نکتہ۔۔ اگر قانونی طریقے سے ، بنکوں کے ذریعے یہ رقوم منتقل کرنے کا اقدام نا پید ہے تو پھر ان تما م شخصیات کے خلاف مقدمات قائم کئے جائیں اور اگر یہ رقوم بنک کے ذریعے ہی بیرون ملک منتقل کرتے ہوئے قانون کی پاسداری کو مقدم جانا گیا ہے تو پھر چور کیسا، پھر ڈر کس بات کا؟ ۔۔ اور جہاں تک عوام کا تعلق ہے ، وہ اپنے اپنے نام نہاد لیڈروں کی مدح سرائی کے بجائے صرف اپنے رہن سہن، اپنے آس پاس کے ماحول اور اس قوم کی گرتی ہوئی معاشی حالت کو ہی دیکھ لیں، انہیں کسی وکی لیکس ، کسی پاناما لیکس کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔۔ لیکن کیا کہئے کہ اس کے لئے احساس کے زندہ ہونے ، اور غلامی کے طوق اتارنے اور اپنی آئندہ نسلوں کے مستقبل کا سوچنے کی ضرورت ہوتی ہے جو کم از کم ان ہوشربا لیکس کے بعد نا تو 2013میں ہمارے ہاں نظر آئی اور ناں ہی اب 2016میں کہیں دکھائی دے رہی ہے۔

حصہ