یومِ دستور ۔۔کپتان کا قوم سے خطاب ۔ قومی تاریخ کا پہلا واقعہ
10 ۔ اپریل 1973 کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے آئین کا مسودہ منظور کیا تھا جو12 ۔ اپریل کو صدارتی منظور ی کے بعد نافذ العمل ہو کر ’’ دستورِ پاکستان ‘‘ کہلایا تھا ۔۔۔ 10 ۔ اپریل 2016 کو پاکستان کی قوی سیاسی تاریخ کا ایک اہم اور اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ یہ پیش آیا کہ پاکستان کی پارلیمان کے ممبر اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے قوم سے براہ راست خطاب کیا ۔ عمران خان کا خطاب پاکستان سٹنڈرڈ ٹائم کے مطابق شام 6 بج کر 17 منٹ پر شروع ہوا اور سات بج کر ایک منٹ تک جاری رہا ۔ عمران خان نے اس خطاب میں وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے بیرونِ ملک خفیہ اثاثوں خصوصاً آف شور کمپنیوں کی سرمایہ کاری کے حوالے سے حقائق قوم کے سامنے رکھے ۔ اور کہا کہ ان انکشافات کے بعد نواز شریف وزیر اعظم رہنے کا اخلاقی جواز کھو چُکے ہیں ۔ انہوں نے وزیر اعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ 24 ۔ اپریل کو پارٹی کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ عمران خان نے قوم سے خطاب کا فیصلہ سرکاری اور قومی ٹیلی وژن کے اس رویے کے بعد کیا تھا ۔جس کا اظہار قومی اسمبلی میں عمران خان کے خطاب کو پی ٹی وی نے کوریج نہ دے کر کیا تھا ۔ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف نے پی ٹی وی کو مراسلہ ارسال کیا تھا کہ عمران خان قومی نشریاتی ادارے کے ذریعے قوم سے مخاطب ہونا چاہتے ہیں ۔ اس مراسلے کو وزارتِ اطلاعات اور وزیر داخلہ نے مسترد کر دیا تھا۔ جس پر عمران خان نے اپنی رہائش گاہ بنی گالہ میں قائم اپنے سیکریٹریٹ کے لان سے قوم سے خطاب کیا ۔ اس خطاب کو نجی چینلز اور سوشل میڈیا نے براہ راست نشر کیا ۔ تاہم پی ٹی وی نے اس بڑے ایونٹ کی کوریج کا مکمل بائیکاٹ کیا ۔ نہ کوئی خبر نہ کو ئی ٹکر چلا ۔ بلکہ اس دوران وزیر اطلاعات پرویز رشید کے تنقیدی ٹکر چلتے رہے

حصہ