داور کنڈی( ایم این اے ) کا استعفیٰ کارڈ کیا عمران خان کو دباؤ میں لانے میں کامیاب رہے گا ۔۔۔؟

ڈیرہ اسماعیل خان ( نیلاب نیوز نیٹ ورک رپورٹ ) قومی اسمبلی کے حلقہ این اے25 کی نشست سے مولانا فضل الرحمن کے بیٹے کو شکست دے کر پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پررکنِ قومی اسمبلی منتخب ہونے والے داور کنڈی اپنے سیاسی مستقبل کی وجہ سے پریشان نظر آنے لگے ہیں ۔ ایف ایم91 ڈی آئی خان کے ہفتہ وار مقبول پروگرام ’’ جی ہاں ۔ جی نہیں ‘‘ میں ممتاز صحافیوں ابوالمعظم ترابی ، عنایت عادل ، انوار حسین حقی اور احسان اللہ بلوچ پر مشتمل پینل کے روبرو داور کنڈی ( ایم این اے ) نے صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک پر پارٹی کے منشور کو پسِ پشت ڈالنے اور عمران خان کے وژن سے اغماض برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ صوبے میں خاندانی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں ان کے بقول پرویز خٹک نے ان کے حلقے میں انہیں نظر انداز کرتے ہوئے مولانا برادران کو نوازنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے ۔ ان کا کہنا تھا صوبائی حکومت ان کے مخالفین مولانا لطف الرحمن ( اپوزیشن لیڈر) اور محمود بٹنی پر فندز کی بارش کیئے ہوئے ہے جس کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کو سیاسی طور پر نقصان پہنچ رہا ہے ۔ڈیرہ اسماعیل خان کی بیورو کریسی کے تمام افسران مولانا لطف الرحمن کی مرضی اور اشاروں پر کھیل رہے ہیں ۔ داور کنڈی کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں ان کا سیاسی مستقبل مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے لہذا وہ پارلیمانی پارٹی کے آئندہ اجلاس میں پارٹی قیادت کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیں گے ۔ اس سے قبل انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک پریس کانفرنس کے دوران صوبائی حکومت اور پارٹی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا ۔ مذکورہ ریڈیو پروگرام میں انہوں نے اپنی پریس کانفرنس کا دفاع کیا اور صوبے کی خٹک حکومت کے اقدامات کو پارٹی کے لیئے نقصان قرار دیا تاہم انہوں نے یہ بات بھی زور دے کر کہی کہ آئندہ عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف مرکز اور صوبوں میں کلین سویپ کرے گی ۔ داور کنڈی کے خیالات بظاہر تضادات کا شکار نظر آتے ہیں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے پارٹی کی مجموعی کارکردگی تسلی بخش ہے یہی مستقبل میں ان کی جماعت کی کامیابی کی بنیاد بنے گی ۔ڈیرہ کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کے بقول داور کنڈی صوبائی حکومت کی جانب سے فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے پریشان ہیں ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پرویز خٹک پر خاندانی سیاست کو فروغ دینے کا الزام لگانے والے داور کنڈی کے بھائی مصطفیٰ کنڈی حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ٹانک کے ضلع ناظم منتخب ہوئے ہیں ۔ جبکہ اگلے انتخابات میں وہ اپنے خاندان کی جانب سے ڈیرہ کی قومی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر الیکشن لڑنے کا اعلان بھی کرتے نظر آتے ہیں ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ دیکھنا یہ ہے کہ داور کنڈی اپنا استعفیٰ کارڈ کھیل کر پی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہو جائیں گے یا انہیں’’ استعفیٰ کارڈ ‘‘ کھیلنے کی بھاری قیمت چُکانی پڑے گی کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان اس قسم کے دباؤ کو بڑے دوٹوک انداز میں یکسر مسترد کرنے کی تاریخ رکھتے ہیں ۔۔۔۔

حصہ