زمین پھٹی نہ آسمان رویا ۔۔۔۔۔۔ چچا نے تین سالہ معصوم بھتیجے کا زیادتی کے بعد گلا دبا دیا ۔
میانوالی ( رپورٹ / نوائے شرر+ نیلاب نیوز نیٹ ورک ) میانوالی پولیس کے سی آئی اے سٹاف نے تین سالہ بچے کا درندہ صفت قاتل ڈھونٖڈ نکالا ۔۔۔15139794_1023902721052292_1551073226_nپولیس حراست میں درندہ صفت قاتل نے لرزہ خیز انکشافات کیے ۔۔ تفصیلات کے مطابق میانوالی کے لاری اڈا کے قریبی علاقے میں تین ہفتہ قبل ظالمانہ طریقے سے قتل ہونے والے ساڑھے تین سالہ مقتول عبد اللہ کے قتل کی تفتیش سی آئی اے سٹاف کے انچارج مہر ظفر عباس لک کے حوالے کی گئی ۔ مہر ظفر عباس نے اپنی ٹیم کے ہمراہ معاملے کی تفتیش کی ۔ علاقہ کے تفصیلی سروے کے بعد معصوم مقتول عبد اللہ کے چچا بیس سالہ شمشاد کو حراست میں لے کر تفتیش کی تو شمشاد نے اقبال جرم کر لیا ۔ ذرائع کے مطابق ملزم شمشاد نے اپنے ابتدائی بیان میں پولیس کو بتایا ’’ اسے رنج تھا کہ اس کے بھائی پرویز اختر نے اپنے بھائیوں کے بچے گود لینے کی بجائے اپنے برادرِ نسبتی سلیم ولد نذیر سکنہ شیخوپورہ کا بچہ گود کیوں لیا ۔۔اسی رنجش پر جمعرات 17 نومبر کی سہ پہر میں اپنے بھتیجے عبد اللہ کی زندگی کا خاتمہ کرنے کے لیئے اُسے اپنے ساتھ ویران حویلی مظہر شاہ کے ایک ویران کمرے میں لے گیا ۔عبد اللہ بلا خوف و خطر میرے ساتھ آ گیا ۔۔15139794_1023902721052292_1551073226_n۔میں نے پہلے عبد اللہ کے ساتھ غیر اخلاقی درندگی کا کھیل کھیلا تا کہ پولیس کو دھوکہ دیا جائے ۔ اس کے بعد عبد اللہ کے گلے میں وہاں پڑی چارپائی کی رسی ڈالی ۔اور ریت پر لٹا کر منہ بند کرکے گلا دبا دیا ۔۔۔۔جس سے اس کی موت واقع ہو گئی ۔ یاد رہے کہ 17 نومبر کی رات ساڑھے نو بجے کے قریب ساڑے تین سالہ عبد اللہ کی نعش گلے میں رسی سمیت اسی حویلی سے ملی تھی ۔ اس ااندوہناک قتل کا مقدمہ تھانہ سٹی میانوالی میں درج ہوا تھا لیکن تفتیشی آفیسر محمد خان قاتل کو تلاش کرنے میں ناکام رہا تھا ۔ جس پر تفتیش سی آئی اے سٹاف کے انچارج مہر ظفر عباس لک کو سونپی گئی جنہوں نے اس قتل کا معمہ حل کر لیا ۔

حصہ