گفتگو
طالب حسین عامر
خود کشیاں اوربرداشت
______________
ہمارے معاشرے میں جہاں دیگر معاشرتی برائیاں یا قباحتیں اُبھر کر منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔وہاں انسانیت بھی بری طرح تڑپ رہی ہے۔سسک رہی ہے۔ آئے روز ایک نیا الم کدہ سامنے آ رہا ہے۔اخبارات وجرائد اور الیکٹرونک میڈیا پر روزانہ ایسے المناک واقعات کی رپورٹنگ دیکھنے کو ملتی ہے جن کی بنیاد معاشرتی نا ہمواریاں ہیں ۔ خود کُشی اور قتل وغارت ، ڈکیتی اور لوٹ مار کی خبریں روز مرہ کا معمول بن چُکی ہیں ۔
معاشرے کی الم ناکی کا یہ رُخ پوری قوم دیکھتی ہے۔ لیکن بہت کم لوگ ہیں جو ان کا نوٹس لیتے ہیں یا معاشرتی نا ہمواریوں پر کڑھتے ہیں یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے سے داد رسی اور انسان دوستی کی نشانیاں مٹتی جارہی ہیں۔خود کُشی کے الم انگیز واقعات میں اس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کہ یہ اندوہناک واقعات روز مرہ کا معمول سمجھے جانے لگے ہیں۔ایک انسان کی اپنے ہاتھوں اپنی ہی جان لینے کے واقعہ کو ہم سرسری سی اہمیت بھی نہیں دیتے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال کے دوران خود کشی کے مجموعی طور پر 2236 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 1560 خواتین اور باقی مرد شامل ہیں۔یہ تعداد پاکستان کے پانچوں صوبوں اور وفاقی دارلحکومت کے علاقے کے ان واقعات پر مبنی ہے جو پولیس میں رپورٹ ہوئے ہیں۔وہ واقعات اس رپورٹ میں شامل نہیں ہیں جو پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علم یا نوٹس میں نہیں ہیں۔
خود کشی کے رجحان میں اضافے کے بہت سے پہلو ہیں۔جن میں سے ایک پہلو برداشت کا فقدان بھی ہے ۔معاشرے کے اہلِ دانش پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو بتائیں کہ خود کشی بزدلی ہے۔خود کشی کرنے والے زندگی کے مسائل سے فرار حاصل کرنے کی کوشش میں اپنے اہل خانہ اور اپنے ورثاء کو کبھی نہ ختم ہونے والی دکھ اور اذیت میں مبتلا کر جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے بھی خود کشی کو حرام قرار دیا ہے۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جس کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی معافی نہیں ہے۔معاشرے میں اس امر کا درس دیا جانا چاہئے کہ ہمیں زندگی کے مسائل اور مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہئے اور راہ فرار اختیار کرنے کی بجائے اپنی زندگیوں کو ہمت استقامت اور ثابت قدمی سے گذار ی چاہئے۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ ہمارے ہاں برداشت کا بہت زیادہ فقدان ہے۔ حالانکہ برداشت فطرت کا ایک عالمگیر اصول ہے۔جب بھی زیادہ لوگ ساتھ مل کر ندگی گزاریں گے تو ان کے درمیان شکایت اور اختلاف کے واقعات بھی رونماء ہوں گے۔ایسا ایک گھر کے اندر بھی ہوگا اور سماج کے اندر بھی۔پورے ملک میں بھی اور بین الاقوامی زندگی میں بھی ہوگا۔انسان خواہ جس سطح پر بھی ایک دوسرے سے ملیں او ر تعلقات قائم کریں ان کے درمیان نا خوشگوار واقعات کا پیش آنا بالکل لازمی ہے۔ایسی صورتحال میں کیا کیا جائے، برداشت اسی سوال کا جواب ہے۔ایسی حالت میں ایک شخص دوسرے شخص کے ساتھ اورایک گروہ دوسرے گروہ کے ساتھ رواداری اور برداشت کا معاملہ کرے۔ مل جل کر زندگی گذارنے اور مل جل کر ترقی کرنے کی یہی واحد قابلِ عمل صورت ہے۔اس اسپرٹ کے بغیر انسانی تمدن کی تعمیر اور اس کی ترقی ممکن نہیں۔
برداشت کو ئی انفعالی رویہ نہیں عین حقیقت پسندی ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی کے لئے زیادہ بہتر چوائس لینے کا موقع تھا۔اور اس نے پست ہمتی کی بنیاد پر ایک کمتر چوائس کو اختیار کر لیا۔حقیقت یہ کہ موجودہ دنیا میں اس کے سوا کوئی اور چوائس ہمارے لئے ممکن ہی نہیں۔ٹالرنس ہماری ایک عملی ضرورت ہے نہ کہ کسی قسم کی اخلاقی کمزوری۔
اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی ایک صورتحال کو اپنے لئے ناخوشگوار پا کر اس سے لڑنے لگتا ہے اور بالاآخر تباہی سے دوچار ہو جاتا ہے۔ایسا کیوں ہو تا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی نے اپنی کوتاہ نظری کی وجہ سے یہ سمجھا کہ اس کیلئے انتخاب خوشگوار اور نا خوشگوار کے درمیان ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے لئے انتخاب خوشگوار اور نا خوشگوار کے درمیان ہو۔زیادہ تر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے لئے انتخاب کم نا خوشگوار اور زیادہ نا خوشگوار کے درمیان ہوتا ہے۔ایسی حالت میں عقل مندی یہی ہے کہ آدمی زیادہ نا خوشگوار سے بچنے کے لئے کم نا خوشگوار پر راضی ہو جائے۔
قارئین کرام :۔ ہمیں جاننا چاہئے کہ برداشت ایک حکمت کا نام ہے۔اس دنیا میں برداشت کرنا آدمی کو زندگی کی طرف لے جاتا ہے اور بے برداشت ہو جانا صرف موت کی طرف۔برداشت کا طریقہ ہمیں فرصت عمل دیتا ہے۔بلاشبہ اس دنیا میں سب سے بڑی چیز فرصت عمل ہی ہے۔فر صت عمل سے محرومی ہی کا نام بربادی ہے اور فرصت عمل کو پا کر اس کو استعمال کرنے ہی کا نام کامیابی ہے۔

حصہ