واں بھچراں پابندی کے باوجود گندم میں رکھنے والی گولیوں کی کھلے عام فروخت جاری

ضلع میانوالی کی انتظامیہ لمبی تان کر سوگئی ،ای ڈی او زراعت خواب خرگوش کے مزے لینے میں مصروف، پابندی کے باوجود گندم میں رکھنے والی گولیاں کھلے عام فروخت ہونے لگیں، ان گولیوں کے باآسانی ملنے کے باعث خودکشی کرنے والے افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہونے لگا۔ تفصیلات کے مطابق گندم میں رکھنے والی گولیوں کی فروخت پر عائد پابندی عملی طور پر ختم ہو کر رہ گئی ہے جبکہ محکمہ زراعت میانوالی کے آفسران نے بھی مبینہ طور پر چپ سادھ رکھی ہے جس کی وجہ سے خودکشی کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ گلی محلوں میں موجود دوکانوں سمیت چلتے پھرتے کئی افراد یہ گولیاں کھلے عام فروخت کر کے ان پر عائد پابندی کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق روزانہ 3 سے 4 افراد زہریلی گولیاں کھا کر ڈسٹرکٹ ہسپتال میانوالی سمیت ضلع کے دیگر ہسپتالوں میں پہنچ جاتے ہیں جن میں ہلاکتوں کی شرح 80فیصد ہے۔ یہ زہریلی گولیاں نہ صرف کریانہ سٹورز بلکہ پنسار اور کھلاسرف بیچنے والی دوکانوں پر بھی بغیر کسی روک ٹوک کے فروخت ہو رہی ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق گندم میں رکھنے والی گولیاں انتہائی خطرناک ہوتی ہیں یہ گولیاں معدے میں جاتے ہی گیس میں تبدیل ہو جاتی ہیں جس کے باعث دل کے خلیے تباہ ہونے لگتے ہیں اور دل کی دھڑکن رُک جاتی ہے جس سے مو ت واقعہ ہو جاتی ہے۔ شہریوں کے مطابق اگر محکمہ زراعت اس پر توجہ دے اور ان گولیوں کی سرعام فروخت کو روکا جائے تو خودکشی کے واقعات میں کمی واقعہ ہو سکتی ہے۔

حصہ