ڈیرہ اسماعیل خان ( عنایت عادل)داور اینڈ کمپنی کی عمران خان سے ملاقات کا نزلہ ضیاء اللہ طورو پر گرگیا،وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر دفتری اوقات کے بعد ڈائریکٹر انٹی کرپشن کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔پی ٹی آئی ارکان قومی اسمبلی نے عمران خان سے ضیاء اللہ طورو کو طلب کرتے ہوئے ان سے صوبے میں جاری کرپشن کے شواہد اور تفصیلات حاصل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔عمران خان کی جانب سے مثبت جواب کے سامنے آتے ہی صوبائی حکومت نے ضیاء اللہ طورو کو ڈائریکڑ انٹی کرپشن کے عہدے سے ہٹانے کے احکامات جاری کر دئیے۔داور کنڈی سمیت پی ٹی آئی کے دیگر راہنماؤں کی شدید الفاظ میں مذمت۔ تفصیلات کے مطابق، پی ٹی آئی کے چار ارکان اسمبلی نے گزشتہ پیر کی شام چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی تھی جس میں ان چار منتخب ارکان قومی اسمبلی نے کپتان کو انکی جماعت کی صوبائی حکومت کی مبینہ بدعنوانیوں اور اقرباء پروری کے شواہد فراہم کرتے ہوئے اصلا ح احوال کا مطالبہ کیا تھا۔بنی گالہ اسلام آباد میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران ان چار ارکان قومی اسمبلی نے چیئرمین عمران خان کو اپنی جانب سے مبینہ شواہد فراہم کئے تھے وہیں ان کی جانب سے عمران خان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ڈائریکڑ انٹی کرپشن ضیا ء اللہ طورو کو طلب کرتے ہوئے ان سے صوبائی حکومت اور خاص طور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی جانب سے کی جانے والی مبینہ کرپشن کے بارے میں تفصیلات حاصل کریں تا کہ عمران خان کو اپنی جماعت کی صوبائی حکومت کی روش اور اسکی بنیاد پر پی ٹی آئی کی گرتی ہوئی ساکھ کا اندازہ ہو سکے۔ پی ٹی آئی سے منتخب ارکان قومی اسمبلی پر مشتمل چار رکنی وفد، جس میں انجینئر داور خان کنڈی، امیر اللہ خان، خیال زمان اور جنید اکبر شامل تھے، کی جانب سے کئے جانے والے اس مطالبے پر عمران خان نے مثبت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ضیا ء اللہ طورو سے ملاقات کو اپنی ڈائری میں نوٹ کیا تھا۔وفد کی جانب سے کئے جانے والے اس مطالبے اور اس کے جواب میں چیئرمین عمران خان کے مثبت رد عمل کی بھنک ہی کی بنیاد پر مبینہ طور پر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی ہدایات پر ضیاء اللہ طورو کو ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کو ان سے عہدے سے ہٹاتے ہوئے دوسرے محکمہ میں تبدیل کرنے کے احکامات جاری کر دئیے گئے ۔ ذرائع کے مطابق ضیاء اللہ طور و کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے احکامات دفتری اوقات کے ختم ہونے کے کئی گھنٹے بعد جاری کئے گئے جو کہ اس تاثر کو تقویت دینے موجب کہلایا جا سکتا ہے کہ مذکورہ ملاقات میں کیا جانے والا مطالبہ ہی اس عجلت میں اٹھائے جانے والے اقدام کا موجب بنا۔اس ضمن میں جب رکن قومی اسمبلی داور خان کنڈی سے بات کی گئی تو انہوں نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب عمران خان کو اس بات کا یقین ہو جانا چاہئے کہ ان کی جماعت کے صوبائی وزیر اعلیٰ اپنی گردن بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور وہ اس سلسلے میں قوائد سے ہٹ کر اقدامات اٹھانے پر مجبور ہو چکے ہیں ۔داور خان کنڈی نے رات کے اندھیرے میں ضیا ء اللہ طورو کے تبادلے کے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف عمران خان جہاں کرپشن کے خلاف تحریک کا استعارہ بن چکے ہیں وہیں خود ان کی جماعت کے وزیر اعلیٰ کبھی احتساب کمیشن کے چیئرمین اور کبھی اینٹی کرپشن کے ڈائریکٹر کو ان کے عہدے سے ہٹاتے ہوئے احتساب کے عمل سے خائف محسوس ہو رہے ہیں۔انجینئر داور خان کنڈی کے مطابق، انہوں نے اس سلسلے میں اپنا احتجاج بذریعہ ای میل ، پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو بھی ارسال کر دیا ہے جسے پڑھ کر چیئرمین عمران خان کی آنکھیں مذید کھل جانی چاہئیں کہ جن کو صوبائی حکومت اور صوبائی وزیر اعلیٰ کی جانب سے سب اچھا کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے مسلسل دھوکہ دیا جا رہا ہے۔

حصہ